انوارالعلوم (جلد 6) — Page 554
انوار العلوم جلد 4 وولد دعوت علماء أوْ كَذَبَ بِايْتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ - (الانعام : ۲۲) (اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر افتراء کیا۔ یا اس کے نشانوں کو جھٹلایا تحقیق ظالم کامیاب نہیں ہوا کرتے ، پر غور کریں اور دوسری طرف آپ کے سلسلہ اور کام میں جو روز افزوں ترقی ہو رہی ہے اس کو دیکھیں اور سوچیں کہ آیا یہ نصرت کبھی کسی مفتری علی اللہ کو ملی ہے اور پھر خاص کر اس قدر تحدی کی پیش گوئیوں کے بعد ۔ اگر اس طریق پر آپ عمل کریں گے تو میں اللہ تعالیٰ سے یقین رکھتا ہوں کہ وہ آپ پر حق کھول دیگا اور آپ امام وقت کی مخالفت سے بچ جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے دَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا : (العنكبوت : ۷۰) جو لوگ ہمارے راستہ میں ہمارے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق کوشش کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے سچے راستوں کی طرف راہنمائی کر دیتے ہیں لیکن اگر اس طریق سے آپ لوگوں کی نسلی اور تشفی نہ ہو یا آپ اس طریق پر عمل کرنا اپنی کسر شان سمجھیں تو پھر ایک اور طریق بھی ہے اور وہ یہ کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک عام جلسہ کیا جائے جس میں ایک نمائندہ آپ لوگوں کی طرف سے ہوا اور ایک احمدیوں کی طرف سے اور مسائل مختلفہ پر تبادلہ خیالات ہو جائے اس تبادلہ خیالات کی غرض مباحثہ اور مناظرہ نہ ہو بلکہ حقی کی تلاش اصل مقصد ہو۔ آپ کا نمائندہ بھی اور احمدیوں کا نمائندہ بھی قسم کھائے کہ میں جو کچھ کہوں گا ی یہی کہوں گا اور ضد اور ہٹ نہیں کروں گا جو بات مجھے اپنی کمز ور معلوم ہوگی اس کا اقرار کر لیتے ہیں مجھے عذر نہ ہوگا اور اس پر میں اصرار نہیں کروں گا ۔ اسی طرح سننے والوں کو بھی دونوں ہدایت کریں کہ یہ دین کا معاملہ ہے ۔ ہم قیامت کے دن آپ کے جواب دہ نہیں ہو سکتے ۔ آپ لوگ اپنی خدا دارد عقل سے کام لیں اور جو بات آپ کو سچی معلوم ہو اس کے قبول کرنے سے بھجنیں نہیں اور یہ خیال دل سے نکال دیں کہ ہمارا مولوی جیت گیا یا دوسرا مولوی جیت گیا ۔ مذہبی اختلاف جوئے بازی نہیں کہ اس میں جیت ہار کا فیصلہ کیا جائے ۔ ہر شخص نے مرکز خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا ہے اگر ایک منٹ کی خوشی کے لئے بندہ اسے ناراض کر دے تو اس سے زیادہ جہالت اور کیا ہوگی۔ اس نیت اور ارادہ کے بعد جو تبادلہ خیالات ہوگا میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ انشاء اللہ تعالیٰ بہت مفید ثابت ہوگا اور بہتوں کے لئے موجب ہدایت ہوگا ۔ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اپنے دلوں میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ مرزا صاحب نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ اپنے دعوی میں جھوٹے تھے مگر آپ لوگ اس امر پر بھی غور کریں کہ جب تک