انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 556

انوار العلوم جلد 4 ۵۵۶ دعوت علماء اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اختلاف فی مابین کو مباہلہ کے ذریعہ سے مٹانے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم کو ہم لوگ اگر تمام باقی تدابیر کو بے فائدہ پائیں یا بے اثر دیکھیں تو اس تدبیر کے ذریعہ سے حق کے اظہار کی کوشش کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ذریعہ سے ایک فریق ہلاکت کی زد تی کے کی کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ذریعہ سے ایک فرق ہلاکت کی کے نیچے آجائے گا مگر چند آدمیوں کی قربانی سے اگر ہزاروں لاکھوں انسانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہو تو اس قربانی کو گراں نہیں سمجھنا چاہئے ۔ یہ خیال درست نہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ سے نیکی نہ مانگی جائے اور اس کے عذاب کو طلب کیا جائے اگر وہ ہلاک کر سکتا ہے تو ہدایت بھی تو دے سکتا ہے کیونکہ ہدایت دیتے کی طاقت اللہ تعالیٰ میں اب نہیں پیدا ہوئی بلکہ وہ ہمیشہ سے ہادی ہے مگر باوجود اس کے اس نے بعض حالات میں مباہلہ کی اجازت دی ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ بعض حالات میں مباہلہ ہی فیصلہ کا آسان ذریعہ ہوتا ہے اگر صرف دُعا ہی فیصلہ کا ذریعہ ہوتا تو وہ اپنے رسول کو جو رحمت مجسم تھا کبھی مباہلہ کی اجازت نہ دیتا پس جب اور کسی طرح فیصلہ نہ ہو تو مباہلہ فیصلہ کا بہترین ذریعہ ہے ۔ امت محمدیہ ہمیشہ سے اس طریق فیصلہ کو صحیح سمجھتی آئی ہے اور اس پر عمل کرتی چلی آئی ہے۔ چنانچہ خود صحابہ میں سے بعض نے مباہلہ کے ذریعہ سے فیصلہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور امام ابن قیم کا مباہلہ مشہور ہے ۔ اس وقت کے علماء بھی مختلف موقعوں پر مباہلہ کے لئے دوسروں کو چیلینج دیتے رہے ہیں اور چیلنج قبول بھی کرتے رہتے ہیں ہیں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مباہلہ نا جائز ہے یا مباہلہ طریق فیصلہ نہیں کیونکہ اگر مباہلہ نا جائز ہے تو پھر کیوں ہمیشہ سے مسلمان اس کو جائز سمجھتے آئے ہیں اور کیوں اس وقت کے علماء بھی ایک دوسرے کو مباہلہ کا چیلنج دیتے رہے ہیں اور اگر یہ طریق فیصلہ کا طریق نہیں تو قرآن کریم نے اس طریق کو کیوں پیش کیا ہے۔ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ پہلے مباہلہ کا نتیجہ معین ہو جائے پھر مباہلہ ہو سکتا ہے مگر یہ لوگ اس قدر ر نہیں سمجھتے کہ وہ طریق معین کون کرے مباہلہ کے معنی تو یہ ہوتے ہیں کہ دو فریق دعا کرتے ہیں کہ خدا جھوٹے پر لعنت کرے اور اس پر عذاب نازل کرے پس یہ کس طرح جائز ہے کہ ایک فریق دوسرے سے پوچھے کہ کیا عذاب آئے گا اگر دوسرے فریق پر واجب ہے کہ عذاب کی تعیین کرے تو اس پر بھی تو واجب ہے کہ عذاب کی تعیین کر سے کیونکہ مباہلہ کرنے میں دونوں برابر ہیں بعض لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ مباہلہ کا نتیجہ یہ نکلنا چاہئے کہ جھوٹا سٹور اور بندر بن جائے اور اسی وقت عذاب نازل ہو کر ہلاک ہو جائے۔ پس اگر احمدی اس بات کا اعلان کریں کہ ہم بندر بن جائیں گے اور ای وقت اس آسمان سے آگ نازل ہو کر ہمیں جلا دے گی تب ہم مباہلہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ نہیں دیکھے