انوارالعلوم (جلد 6) — Page 549
انوار العلوم جلد 4 ۵۴۹ دعوت علماء کہ اس قسم کے یقین کی وجہ کیا تھی ؟ کوئی شخص دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے اور دو پیر کو سحری کھائے تھی؟ دروازہ بند کر کے دو پر کو تو اس کا روزہ نہیں ہو جائے گا اس کا یہ بھی فرض تھا کہ دروازہ کھول کر دکھتا کہ سحری کا وقت کب آیا ۔ اسی طرح جو لوگ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعوی کرتے ہیں ان کے متعلق لوگوں کا آیا۔ اسی جو لوگ اللہ کی سے آنے کا ہیں ان کے کا اسی قدر فرض نہیں کہ وہ دیکھیں کہ ان کا دل ان کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ یا یہ کہ ان کے بعض خیالات سے اس کی صداقت کا کیا ثبوت ملتا ہے ؟ بلکہ ان کا فرض ہے کہ منہاج نبوت سے اس کے دعواے کو پر کھیں اور اگر دعوئی سچا پائیں تو اس کو قبول کر لیں ورنہ ردگی کر دیں ۔ پس آپ لوگ جو قادیان تشریف لائے ہیں ۔ میں آپ کو مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ منہاج نبوت پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعوی کو پرکھیں اور انکار کرنے سے پہلے اس بات کو اچھی طرح سوچ لیں کہ یہ بات معمولی نہیں ہے۔ اگر مرزا صاحب پیچھے تھے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے آپ پر بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے اور وہ لوگ جو آپ لوگوں کے کہنے سے حق کے قبول کرنے سے محروم رہ جائیں ان کے گناہ کا وبال بھی آپ کی گردنوں پر پڑتا ہے ۔ اسلام کی حالت اس وقت سخت نازک ہے اور مسلمان گرتے گرتے انتہائی ذلت کو پہنچ گئے ہیں اگر آج بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ترقی کا کوئی سامان نہ ہوتا تو پھر اسلام اور دوسرے مذہبوں میں فرق کیا رہ جاتا ؟ اس زمانہ سے پہلے بہت چھوٹے چھوٹے فتنوں کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجدد آتے رہے ہیں اور قریباً تمام مسلمان اس امر کے قائل ہیں کہ ان مجددوں اور ولیوں کے ذریعے دین اسلام کی حفاظت ہوتی رہی ہے۔ حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی ، حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت سید احمد صاحب سرہندی رضی اللہ عنہم اور ہزاروں بزرگ ان فتنوں کے فرو ، سید احمد سپر رضی عیم اور ان فا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ اس وقت کے فتنہ کے فرو کرنے کے لئے جسکے مقابلہ میں زمانہ ماضی کے فتنے بالکل بے حقیقت ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھی شخص نہیں بھیجا گیا اور اگر کوئی شخص بھیجا گیا تو نعوذ باللہ من ذالک وہ ایک دقبال اور مفتری انسان تھا اور پھر غضب یہ ہوا کہ اس نازک موقع پر اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان پر ایسے نشان بھی ظاہر کر دیئے جو مسیح موعود اور مہدی مسعود کے زمانہ کے لئے مقرر تھے ۔ اگر یہ بات فی الواقع ہیچ ہو تو پھر ماننا پڑے گاکہ اللہ تعلی کا اپنا منشاء ہے کہ مسلمان گمراہ ہوں اور دین اسلام تباہ ہو۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ الیسا کرے لیپس حق یہی ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب اللہ تعالیٰ کی طرف مأمور ہیں اور ان کو