انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 550

انوار العلوم جلد 4 ۵۵۰ دعوت علماء اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے قیام اور اس کی مضبوطی کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ آپ لوگ غور تو کریں کہ کیا جھوٹے آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہوا کرتا ہے جو آپ سے ہوا ؟ اور کیا جھوٹے لوگ اسلام کی اسی طرح خدمت کیا کرتے ہیں جو آپ نے کی ؟ اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت کے ذریعے سے جو بظاہر نہایت غریب اور کمزور ہے وہ کام لے رہا ہے کی کے جو دوسرے میں کروڑ مسلمانوں سے نہیں ہو سکتا۔ ان کے ذریعے سے دشمنان اسلام سے اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کروایا جا رہا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کو گالیاں دینے والوں کی زبانوں سے آپ پر درود بھجوایا جا رہا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کے کارنامے کیا ہیں۔ جو تعداد میں، مال میں، رعب میں، طاقت میں اس جماعت سے ہزاروں گنے بڑھ کر ہیں سوائے اس کے کہ وہ اس خدا کے برگزیدہ کو اور اس کی جماعت کو گالیاں دے چھوڑیں اور وہ کیا کام کر رہے ہیں ۔ اسلام میں کسی کو داخل کرنا تو ان کے لئے مشکل ہے وہ لوگ جو اسلام کے لئے اپنے اموال اور اپنی جانوں کو قربان کر رہے ہیں ان کی پیٹھ میں خنجر بھونکنا اور خدمت اسلام سے باز رکھنے کی کوشش کرنا ان کا شغل بن رہا ہے۔ پیس ان حالات پر غور کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق اس خدا کے برگزیدہ کو قبول کریں تا اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو عزت نصیب ہو اور اس کے فضل کے آپ لوگ وارث ہوں ۔ بیشک اگر آپ لوگ حق کو قبول کریں گے تو ہماری خشکلات اور تکالیف میں بھی آپ کو شریک ہونا ہو گا اور سب دنیا کی دشمنی آپ کو برداشت کرنی ہو گی اور وہی لوگ جو آج آپ کی باتوں پر مرحبا اور جزاک اللہ کے نعرے لگاتے ہیں آپ کو گالیاں دیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں گالیاں سننے سے زیادہ اور کونسا شیریں کلام ہو سکتا ہے ؟ خدا تعالی کی خاطر ذلت برداشت کرنا ہی اصل عزت ہے اور یہ بات حق کے قبول کرنے میں آپ کے لئے ہرگز روک نہیں ہونی چاہئے ۔ لیکن اگر با وجود ان تمام دلائل اور براہین کے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد غلام احمد کی صداقت کے اظہار کے لئے نازل کئے ہیں ابھی آپ کو ان کی صداقت میں تردد ہے تو پھر میں آپ کو نصیحت کروں گا کہ بجائے ایک خطرناک راستہ پر قدم مارنے کے اور بلا تحقیق اور بلا کافی وجوہ کے ایک مدعی مأموریت پر حملہ آور ہونے کے آپ اپنی قادیان کی آمد کو غنیمت سمجھ کر اس تحقیق میں لگ جائیں جو قادیان سے باہر آپ نہیں کر سکتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ کیا ان لوگوں کے جو مولوی اور عالم کہلاتے تھے اور کہلاتے ہیں بیانات درست ہیں