انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 548

انوار العلوم جلد 4 ۵۴۸ دعوت علماء اللہ تعالیٰ کے مواخذہ سے انسان کو بچا نہیں دیتا ۔ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس کے نیچے یا جھوٹے ہونے کو انسان ان دلائل کے ذریعے سے پرکھے جن دلائل کے ذریعے سے کہ اسی قسم کی م کی صداقتیں پڑھی جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص ایک بات کی سچائی کو اس ذریعہ سے نہیں معلوم کرتا جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی سچائی کے معلوم کرنے کے لئے مقرر کیا ہے تو وہ لاکھ یقین رکھتا ہو کہ وہ بات جھوٹی ہے خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو نہیں ہو سکتا اور اس کا یہ کہنا کافی نہیں کہ میں اس بات کو جھوٹا سمجھنا تھا اس لئے میں نے اسے نہیں مانا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب مخالف آپ کا مقابلہ شرارت سے ہی نہیں کرتے تھے بہت تھے جو واقع میں آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے لیکن کیا وہ اس یقین کی وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ جھوٹے ہیں خدا تعالیٰ کے مؤاخذہ سے بچ جائیں گے۔ اس وقت بھی لاکھوں کروڑوں ہندو اور عیسائی مسیحی ، سچے دل سے یقین کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نعوذ باللہ من ذالک پیچھے نہ تھے تو کیا ان کا یہ یقین ان کو سزا سے بچالے گا ہر گز نہیں۔ کیونکہ ان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ نبیوں کے پہچاننے کے جائے لئے جو طریقی مقرر ہیں کیا انھوں نے ان طریقوں کو استعمال کیا تھا کہ ان کو معلوم ہوا کہ آپ کے اکہ آپ چھوٹے تھے ؟ ابو جہل کی نسبت تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹے ہونے پر اس قدر یقین تھا کہ اس نے جنگ بدر جیسے نازک موقع پر جبکہ دونوں فریق مقابلہ کے لئے تیار کھڑے تھے مباہلہ تک سے گریز نہ کیا اور دُعا کی کہ جو جھوٹا ہو اس پر آسمان پر سے پتھر برسیں یا کوئی اور سخت عذاب نازل ہو۔ چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ انفال میں ابو جہل کی اس دُعا کا ان الفاظ میں ذکر ہے :۔ وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَامْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابِ اليْم - ( الانفال ۳۳ ) مگر باوجود اس یقین کے جو اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ سل کے جھوٹا ہونے پر تھا (نعوذ باللہ ) وہ اللہ تعالیٰ کے حضور بری الذمہ نہیں ہو گا کیونکہ اس سے کہا جائے گا کہ خالی یقین کافی نہیں تو یہ بتا کہ کیا تو نے اس رسول کو ان ذریعوں سے پہچاننے کی کوشش کی تھی جن سے کہ سچے نبی پہچانے جاتے ہیں اور اس سوال کا جواب اس کے پاس کچھ نہ ہو گا ۔ غرض صرف کسی شخص کے جھوٹے ہونے کا یقین اس بات کے لئے کافی نہیں ہوتا کہ اس کی مخالفت کی جائے اور یہ یقین اللہ تعالیٰ کی گرفت سے آدمی کو بچا نہیں سکتا ۔ خدا تعالی یہ بھی رکھتا ہے سیرت ابن ہشام عربی مجلد ۲ صفحه ۲۸۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء