انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 547

انوار العلوم جلد 4 ۵۴۷ دعوت علماء مصر رہے۔ یا جیت ہار کا خیال استقدر اس کے دامنگیر ہو جائے کہ وہ دوسرے کی بات پر غور ہی نہ کرے یا اگر غور کر رہے تو اس خیال سے نہیں کہ اگر وہ بیچی ہو تو اسے تسلیم کرلوں بلکہ اس خیالی سے کہ اس میں سے کوئی نقص نکالوں اور اس کا کوئی عیب پکڑوں اور پھر اس وہمی عیب یا نقص کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے ان کو حق کے قبول کرنے سے باز رکھوں ۔ جب اختلاف یہ رنگ اختیار کرلے تو یہ اختلاف با وجود مذہبی اختلاف ہونے کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کا موجب ہوتا ہے اور اس کی غیرت کو بھڑکاتا ہے کیونکہ اس کا مرتکب اپنی عزت کو اللہ تعالیٰ کی عزت پر اور اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے دین کی کامیابی پر مقدم کر لیتا ہے ۔ اسے یہ فکر نہیں رہتی کہ خدا کا جلال دنیا میں ظاہر ہو بلکہ یہ فکر لگ جاتی ہے کہ میری عزت ہوا اور لوگ سمجھیں کہ یہ بڑا عقل مند اور دانا انسان ہے۔ یہ مقام نہایت ہی خطرناک ہے لیکن لوگوں کی تعریف اور اپنے نفس کا پر لا کر دنیا کی کی بڑائی کا خیال بہت سے لوگوں کو اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے اور اس دنیا کی عزت کی خواہش آخرت کی وسیع زندگی کی ترقیات کو آنکھوں سے اوجھل کر دیتی ہے ۔ اس لئے خدا پر یقین رکھنے والے بندوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک اختلاف کے موقع پر اپنی نیتوں اور ارادوں کو ٹٹولتے رہیں اور اپنے طریق عمل کو جانچتے رہیں تا ایسا نہ ہو کہ اختلاف مٹاتے مٹاتے اپنے آپ کو مٹا دیں اور بدی کا قلع قمع کرتے کرتے صداقت اور راستی کے گلے پر چھری پھیر دیں۔ خصوصاً وہ لوگ جن کی باتوں کی طرف لوگ کان رکھتے ہیں اور جن کے فیصلہ کا لوگ احترام کرتے ہیں ان کو تو بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کی غلطی کا اثر ان کی ذات تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ بہت سے بہت سے دوسرے لوگ بھی ان کے پیچھے چل کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور اس سے زیادہ قابل شرم کیا بات ہوگی کہ ایک شخص دوسرے پر اعتبار کر کے اپنا دین اور ایمان بھی اس کے سپرد کر دے اور وہ فخر و مباہات کی بازی میں اس کو بھی ہار دے ۔ کیس میں آپ لوگوں کو نہایت محبت اور اخلاص سے مشورہ دیتا ہوں کہ جبکہ ہمارا اختلاف محض اللہ کے لئے ہے تو آپ کو اس کے دُور کرنے کے لئے وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب ہو اور اس کی خوشنودی کا باعث ہو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ تمام کے تمام محض فتنہ کی نیت سے قادیان میں آئے ہیں یا آپ کا ظاہر اور باطن ایک نہیں ہے ۔ میں مانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے تہ دل سے یقین رکھتے ہوں گے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوة والسلام کا دعویٰ غلط تھا یا یہ کہ انہوں نے خدا پر افتراء کیا تھا لیکن کسی بات کے باطل ہونے کا یقین اگر وہ سچی ہو تو