انوارالعلوم (جلد 6) — Page 546
انوار العلوم جلد 1 ۵۴۶ دعوت علماء حضرت مرزا غلام احمد سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ماموریت کا دعوی کیا اور دنیا کی اصلاح کا کام شروع کیا۔ پس جب ان لوگوں سے جو قادیان اور اس کے نواح کے رہنے والے ہیں ہمارا کوئی دنیا وی اختلاف نہیں تو آپ لوگ جو دور دور کے شہروں سے آئے ہیں آپ کے اور ہمارے دمیان کوئی دنیادی اختلاف کیونکر ہو سکتا ہے اور جب کہ ہمارا اختلاف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تو چاہئے کہ اس اختلاف کو ہم اسی رنگ میں مٹانے کی بھی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے منشا کے مطابق ہو اور جس سے ان کی خوشنودی ہمیں حاصل ہو۔ یہ نہایت ہی افسوس کا مقام ہوگا اگر ہم خدا تعالیٰ کے لئے آپس میں اختلاف کریں اور پھر اپنے اعمال اور اپنے اقوال سے اس کو ناراض کر دیں ۔ اس صورت میں ہماری شال شاعر کے اس مقولہ کے مطابق ہو جائے گی کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے دنیا تو ہم نے اختلاف سے کھودی اور دین اختلاف کے مٹانے کے لئے جو طریق ہم نے اختیار کیا اس سے برباد کر دیا ۔ جب سے آدم علیہ السلام کی نسل دنیا میں پھیلی ہے اختلاف خیالات چلا آتا ہے اور جب تک اس زمین پر انسان بسے گا اختلاف ہوتا رہے گا ۔ پس یہ چاہنا کہ اختلاف خیالات دنیا سے مٹ جائے ایک عبث خیال ہے جو نہ آج تک کسی سے پورا ہو سکا اور نہ آئندہ ہو سکے گا ۔ اختلاف طبائع ہی انسان کی ترقی کا باعث ہے۔ اگر طبائع کا اختلاف نہ ہوتا تو آج اس قدر پیشے اور مشاغل دنیا میں کیونکر نظر آتے اور اس قدر علمی ترقی کسی طرح ہوتی ۔ اسی امر کو مد نظر رکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اِخْتِلَافُ اُمَّتِی رَحْمَةً * میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہو گا یعنی وہ اختلاف جو اختلاف طبائع کی حد کے اندر محدود رہے گا۔ غرض اختلاف کا ہونا تو ضروری ہے لیکن ناپسند بات یہ ہے کہ اختلاف بڑھتے بڑھتے حق و باطل کا اختلاف ہو جائے یا یہ کہ اختلاف کے وقت انسان اپنے آپ سے اسقدر باہر ہو جائے کہ تقویٰ اور دیانت کو بالکل چھوڑ بیٹھے اور اپنی بات کی پریچ اسے اس قدر ہو جائے کہ وہ اس کے ثابت کرنے اور منوانے کے لئے جھوٹ اور دھوکے سے بھی پرہیز نہ کرے اور خدا کے خوف کو بالائے طاق رکھ کر اپنی غلطی کو سمجھ کر بھی اس پر کنز العمال جلد ۱ صفحه ۱۳۶ حدیث نمبر ۲۸۶۸۶ مطبوعہ طلب ۱۹۷۶