انوارالعلوم (جلد 6) — Page 41
انوار العلوم جلد 4 ۴۱ معیار صداقت اور صداقت کو قائم کیا جائے ۔ ان لوگوں کا ہمیں نفاق اختیار کرنے پر جور کرنا اچھے ثمرات نہیں پیدا کر سکتا تھا ۔ ہم سلطان ترکی کو خلیفہ نہیں مان سکتے ۔ کیونکہ ہمارے لئے خلیفہ ہی ہوتا ہے جو مسیح موعود کا متبع اور جانشین ہو۔ روہی با وجود بے تعلق ہونے کے ہم نے ترکوں کے لئے کیا کیا وہ ہمیں کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ان کے شورش پھیلانے ہیں کیوں شریک نہیں ہوتے۔ لیکن جب ہمارے نزدیک شورشوں میں حصہ لینا جائز ہی نہیں تو ہم کیوں اپنے مسلک اور اپنے مذہب کو چھوڑیں ہاں ہم نے باوجود بے تعلق اور علیحدہ ہونے کے پھر بھی معاہدہ ترکی کے بارے میں اتحادیوں سے جو غلطیاں ہوئی تھیں، ادب سے ان کے تعلق گورنمنٹ کو مشورہ دیا کہ ان کی اصلاح ہونی چاہئے ۔ چنانچہ ان مشوروں کے مطابق ایک حدتک کہ تھریس اور سمرنا کے معاملہ میں پچھلے معاہدہ میں اصلاح بھی کی گئی ہے۔ ہمارا عربوں کی آزادی کے متعلق مشورہ ہم نے عربوں کے مال میں کہا کہ وہ غیر قوم ور کے مشورہ یار بنا لیتے ہیں غیر زبان رکھتے ہیں وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ نہ ان کو ترکوں کے ماتحت رکھا جائے نہ اتحادی ان کو اپنے ماتحت رکھیں۔ باوجود اس کے کہ یہ لوگ اپنے لئے تو یہ قاعدہ بناتے ہیں کہ انگریزی سلطنت سے آزاد ہوں مگر ان کو یہ بات پسند نہیں کہ عرب بھی آزاد ہوں ۔ گویا جو چیز یہ خود نا پسند کرتے ہیں عربوں کو اس کے پسند کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پس ہمارے مطالبات کی صحت کا انکار نہیں کیا گیا بلکہ اس کو تسلیم کر کے موجودہ وقت میں جو اصلاح کی گئی اس کو ملحوظ رکھا گیا ۔ مگر جو کچھ یہ غیر احمدی لوگ مطالبہ کرتے تھے وہ پورا نہیں کیا گیا کیونکہ وہ درست نہ تھا ۔ ہماری ترکوں کے لئے عملی کوششیں ہیں ہم سے جس قدر ہو سکتا تھا ہم نے کیا رسالے پس سے جس قدر ہو ہم ہم نے لکھ کر شائع کئے ، چٹھیاں میں نے گورنمنٹ کو لکھیں اور جو غلطیاں میں نے گورنمنٹ کو بتائیں گورنمنٹ نے فراخ حوصلگی سے ان میں سے بعض کو تسلیم کیا اور ان کی اصلاح کے متعلق کوشش کرنے کا وعدہ کیا ۔ ہم نے ہزا ئیسلنسی گورنہ پنجاب کو میموریل بھیجا ۔ ہم نے گورنر جنرل کو بھی لکھا۔ ولایت میں اپنے مبلغین کو ترکوں سے ہمدردی اور انصاف کرنے کے متعلق تحریک کرنے کے لئے ہدایت کی ۔ امریکہ میں اپنا مبلغ بھیجا کہ علاوہ تبلیغ اسلام کے ترکوں کے متعلق جو غلط فہمیاں ان لوگوں میں مشہور ہیں ان کو دور کرے۔ چنانچہ وہ وہاں علاوہ