انوارالعلوم (جلد 6) — Page 40
انوار العلوم جلد 4 ۴۰ معیار صداقت پس ان لوگوں نے گالیوں کو سنا اور برداشت کیا۔ کیونکہ میرا حکم تھا کہ فساد سے بچو۔ ورنہ بعض جو شیلے ایسے تھے جو گھر بیٹھے روایتاً واقعات سنگر جوش میں آ رہے تھے ۔ ان کو فساد سے روکنے والی بات محض شریعت اور میرا حکم تھا۔ ہم انے اپنی حفاظت کا سامان خود کا بانی اور ان کی رانا اور کا سامان خود کیا اگر ہمارے آدمی ان کے جلسہ میں جاتے اور ان کی سنتے فساد ہوتا تو ہمارے حق میں کسی نے گواہی نہیں دینی تھی ۔ عدالت میں لوگ صریحاً جھوٹ بول دیتے۔ کیونکہ یہ قوم ہماری دشمن ہے۔ ہماری دشمن ہے ۔ دنیا آج منافقت چاہتی ہے اور ہم میں منافقت نہیں اگر فساد ہوتا تو سوائے شاذ کے کوئی ہمارا گواہ نہ ہوتا اور گورنمنٹ کے حکام تک بھی ہمیں کو التزام دیتے ہیں یہ ہماری احتیاط کا نتیجہ نکلا کہ دشمن اپنے جن بداردادوں سے آیا تھا وہ اس کو اپنے ساتھ ہی لے گیا اور کوئی کسی قسم کا فساد نہیں ہوا ۔ فساد کے نہ ہونے اور دشمن کا اپنے بدارا دوں میں ناکام رہنے میں گو گورنمنٹ کے حکام کی موجودگی کا بھی دخل تھا ۔ مگر انھوں نے عملی طور پر اس کام میں کوئی حصہ نہیں لیا اور اس میں روک زیادہ تمہ ہماری احتیاط ہی تھی اور اسی طرح ہمارا یہ حکم کہ ہمارے آدمی بلا اجازت جلسہ میں نہ جاویں۔ انکو ہم پر غصہ ترکوں کی خلافت کے باعث ہے اب سوال ہوتا ہے کہ و ہ پر تنگی کی وجہ کیا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے اشتہاروں میں بھی ظاہر کیا ہے ان کو ہم سے خلافت کے بارے میں اختلاف ہے اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی خلافت کے بارے میں مدد نہیں کرتے مگر ان کا یہ اعتراض کم نمی پر مبنی ہے کیونکہ کسی کومجبور کرنا کہ وہ ان کا ہم خیال ہو جائے ایک بہت ہی برا اور گندہ فعل ہے ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ترکوں کے بادشاہ خلیفہ رسول اللہ ہیں۔ اور بر خلاف اس کے ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلمان خراب ہو گئے ان کی اصلاح کے لئے محمد رسول اللہ کا ایک غلام مسیح اور مہدی بناکر مبعوث کیا گیا ۔ اب خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو مسیح موعود کا غلام ہو۔ پس وہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہمارے مذہب کے خلاف ہے ۔ اگر ہم ان کی خاطر اپنے مذہب کو چھپا کر سلطان ترکی کی خلافت کے مسئلہ میں ان کے ہم خیال ہونے کا اظہار کریں تو ہم منافق ہونگے اور منافقوں کو اپنے ساتھ ملاکر ان کو کیا نفع ہوگا۔ بلکہ ہمارا ملنا ان کے لئے مضر ہوگا کیونکہ اگر ہم ان کے ساتھ اس مسئلہ میں مل جاتے تو ہندوستان میں منافقت بڑھ جاتی۔ اور اس زمانہ میں جبکہ پہلے ہی نفاق چاروں طرف پھیلا ہوا ہے اور ضرورت ہے کہ اس کو ٹا کر تقویٰ