انوارالعلوم (جلد 6) — Page 39
انوار العلوم جلد 4 ۳۹ معیار صداقت حملہ کرے لیکن جب کوئی اس پر حملہ آور ہو تو وہ شریعیت اخلاق اور قانون کی طرف سے مجاز ہے کہ اس حملہ کے دفاع کے لئے ہر ممکن کوشش کرے ۔ بلکہ بعض اوقات اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ ایمان سے باہر ہو جائیگا ۔ ہم ہر ممکن طریق سے امن کے قیام کے حامی ہیں میں ہم نے جو کچھ کہ ان حالات کے ہم کیا ماتحت کیا ۔ یہ میں نے اس لئے بتایا ہے کہ کسی کو حیرت نہ ہو کہ یہ کیا انتظام تھا ورنہ ہم نے نہ کبھی فساد کیا نہ فساد کرنا چاہتے ہیں رینگے یہاں ہرقوم کا سہ ہوتا ہے گر بھی کئی نا نہیں ہوا حالانکہ ابھی کھلے دوں میں آریوں کا جلسہ ہوا اور ان کے بعض لیکچراروں نے اسلام پر حملہ کیا اور گالیاں دیں اور ہمارے ہوا اوران کے بھی نے پر بعض لوگوں نے بھی سُنا مگر وہ خاموش رہے ۔ حالانکہ میں نے ان کو کہا کہ یہ درست نہیں کہ جہاں کوئی گالیاں دے ہم اس کی گالیاں سنتے ہیں۔ یہ بہتر ہوتا کہ وہ وہاں سے آجاتے یہ ہماری ہی جماعت ہے جو گالیاں سننے کے باوجود صبر سے کام لیتی ہے ۔ ورنہ اگر باہر ایسا واقعہ ہوتا تو کشتوں کے پشتے لگ جاتے ۔ م دین کیلئے جان دینے سے پر ہیز نہیں کرتے ابھی ہمارے چو ہدری ظفر اللہ خان صاحب بی اے بیرسٹر لاہور سے آ رہے تھے تو ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو۔ انھوں نے بتایا کہ قادیان جا رہا ہوں ۔ اس نے کہا کہ آپ نہ جائیں وہاں فساد ہو گا ۔ چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ ہماری جماعت فساد نہیں کرے گی۔ اُس نے کہا کون روکے گا انھوں نے جواب دیا کہ ہمارا خلیفہ ہے جو فساد کو روک دیگا ۔ ہمارے مخالفوں کو معلوم نہیں کہ اگر ہم دین کے کام کے لئے جان دینے کو کہیں تو ہماری ار کومعلوم جماعت کے لوگوں کو جان دینے سے بھی عذر نہیں ہو سکتا اور یہ محض ظنی بات نہیں بلکہ واقعہ ہے۔ برطانیہ کی کابل سے جنگ ہوئی ہمارے نزدیک چونکہ حکومت برطانیہ حق پر تھی اور اس وقت تک کابل کی حکومت ہمارے مذہب کو جبراً مٹانا چاہتی تھی اس لئے ہمارا برطانیہ کی مدد کرنا مذہبی فرض تھا ۔ میں نے اپنی جماعت میں اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے اعلان کیا اور با وجود اس کے کہ ہمارے بہت سے لوگ جرمن کی جنگ کے وقت بھرتی ہو چکے تھے پھر بھی ایک قلیل عرصہ میں پندرہ سو درخواستیں آگئیں۔