انوارالعلوم (جلد 6) — Page 509
انوار العلوم جلد 4 ۵۰۹ تحفه شهزاده و نیز ده پر بھی سے آپ آرام کسی وقت کرتے ہیں ؟ ایک ہی دھن اور ایک ہی فکر تھی کہ دنیا اپنے پیدا کر نیوالے سے صلح کرلے اور نجات حاصل کرلے اور اسی دھن میں آپ نے اپنی تمام عمر صرف کر دی ۔ اور ہم کہ سکتے ہیں کہ اگر بعض لوگ خدا کے لئے ایک دفعہ مرے ہیں یا ایک دفعہ صلیب پر چڑھے ہیں تو آپ ان لوگوں میں سے تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے روز مرتے تھے کیونکہ اپنے آرام اور اپنی آسائش کا آپ کو بالکل فکر نہ تھا جو کچھ خیال تھا وہ لوگوں کی نجات کا تھا حتی کہ جس دن صبح کو آپ کی وفات ہوئی اس سے پہلے دن کی شام تک آپ تصنیف کے کام میں مشغول ہے پس آپ کی موت بھی لوگوں کے لئے تھی جس طرح آپ کی زندگی لوگوں کے لئے تھی۔ مخالف جو آپ کی زندگی میں آپ کو ہر قسم کا دکھ دیتے تھے انہوں نے وفات پر بھی قابل شرم کی میں ہر سم کا نے حرکات کیں اور سوانگ نکالے اور ہنسی اڑائی مگر جو کچھ آپ نے خدا سے خبر پاکر پہلے سے کہ دیا تھا وہ اس میں روک نہ ڈال سکے۔ دشمنوں کی تمام خوشیاں دور ہوگئیں اور آپ کا سلسلہ آپ کے جانشین اور خلیفہ اول حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نور الدین صاحب مرحوم و ے اور نورالدین و مغفور کی زیر ہدایت آگے سے بھی زیادہ ترقی کے ساتھ پھیلنا شروع ہو گیا اور جب وہ قریباً چھے سال بعد ۱۹۱۴ء میں فوت ہوئے تو مجھ عاجزہ مرزا بشیر الدین محمود احمد آپ کے دوسرے جانشین کے وقت میں اس نے اور بھی ترقی کی اور ہر دن جو چڑھتا ہے وہ آپ کے ان الہامات کے پورا ہونے کے نئے آثار پیدا کرتا ہے کہ میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلاؤں گا اور تیری جماعت کو بڑھاؤں گا اور اسے شہزادہ مکرم ! زمین و آسمان مل جائیں لیکن اس کی یہ باتیں نہ میں کی کیونکہ وہ اس نے نہیں کہیں بلکہ خدا نے کہی ہیں اور خدا کی باتوں کو کوئی نہیں ٹال سکتا ۔ اور کی