انوارالعلوم (جلد 6) — Page 505
انوار المعلوم جلد 4 ۵۰۵ تحفه شهزاده ویلیز کی وہ کوئی نشان دیکھیں تو چاہئے کہ وہ بھی اور ان کے ساتھی بھی حق کو قبول کریں۔ مگر چونکہ آپ کے دشمنوں غرض حق کا معلوم کرنا نہ تھی بلکہ حق کو مشتبہ کرنا تھی ان دونوں تدبیروں میں کسی ایک تدبیر کوبھی انہوں نے اختیار نہ کیا کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ اگر کوئی نشان ظاہر ہوا تو ہم عوام الناس کو کیا کہ کر روکیں گے ؟ اور پھر اس کی ترقی میں کیا شبہ رہ جائے گا ؟ پس ہر ایک طریق فیصلہ جو آپ پیش کرتے وہ اس سے کسی نہ کسی بہانہ سے گریز کرتے تھے اور مقابل پر نہ آتے تھے ۔ ١٨٩٦ء شملہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی صداقت کے اظہارہ کا ایک خاص موقع نکال دیا اور وہ یہ کہ اس سال لاہور میں ایک مذاہب کی کا نفرنس بیٹھی اور بعض سوال مقرر کر کے سب مذاہب کے علماء سے چاہا گیا کہ وہ ان کے متعلق اپنے اپنے مذاہب کے خیالات کا اظہار کریں ۔ آپ کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی اور آپ نے باوجود بیماری کے اس کے لئے مضمون لکھا جس کے متعلق قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ وہ مضمون سب مضامین سے بالا رہے گا۔ چنانچہ اس پیش گوئی کے متعلق اشتہار چھاپ کے لاہور کی گلیوں میں جلسہ سے پہلے ہی لگا دیا گیا۔ اس کا نفرنس کی وجہ سے ہر مذہب وملت کے لوگوں نے ٹھنڈ سے دل سے آپ کے خیالات کوٹنا اور سب نے اقرارہ کیا کہ سب مضامین میں سے آپ کا مضمون بالا رہا اور اخبارات میں اس کے متعلق مضامین لکھے گئے اور اس قدر دلچسپی کا لوگوں نے اظہار کیا کہ بوجہ وقت کی کمی کے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا گیا تا آپ کا بقیہ مضمون جو وقت مقررہ کے اندر ختم نہیں ہو سکا تھا پڑھا جاسکے۔ نشان پر نشان اور کرامت پر کرامت ظاہر ہونے سے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا ہونے لگا اور چاروں اطراف سے حق پسند لوگ آ کر آپ کی جماعت میں شامل ہونے لگے جسے دیکھ کر مخالف علماء کو اور بھی فکر پڑی اور چونکہ وہ دیکھ چکے تھے کہ ان کی پہلی کوششوں میں ان کو ناکامی ہوئی تھی کیونکہ وہ جو ایذائیں آپ کو پہنچانی چاہتے تھے بوجہ گورنمنٹ کے ظاہر طور پر نہیں پہنچا سکتے تھے اور اخفاء اور ڈر سے تمام تدابیر ادھوری رہ جاتی تھیں ۔ اس لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ گورنمنٹ کی ہی عدالتوں میں آپ کو گھسیٹ کر لے جاویں اور اسی کے ہاتھ سے آپ کو سزا دلوائیں۔ چنانچہ سب سے پہلے مسیحیوں نے آپ پر مقدمہ کھڑا کیا اور یہ سمجھ لیا کہ چونکہ گورنمنٹ ہماری ہم مذہب ہے عدالتوں میں ہماری رعایت کی جائے گی ۔ ایک بڑے پادری صاحب نے یہ