انوارالعلوم (جلد 6) — Page 506
انوار العلوم جلد 4 ۵۰۶ تحفه شهزاده ویلز رپورٹ کی کہ آپ نے ان کے مارنے کے لئے ایک آدمی بھیجا ہے اور ایک آوارہ طبع آدمی کو کئی قسم کے حیلوں اور مکروں سے اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ کہہ دے کہ مجھے انھوں نے پادری صاحب کے مارنے کے لئے بھیجا تھا۔ تمام مذاہب کے لوگ اس پر جوش میں آگئے اور پادری صاحب کے مارنے کے لئے پر صاحب کی مدد کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا کا فرستادہ تمام دنیا کے مقابلہ میں اکیلا رہ گیا مگر اس کو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے اُٹھنے سے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ ایک فتنہ اٹھنے والا ہے جو گورنمنٹ سے تعلق رکھتا ہے مگر سوائے ظاہری خون کے کوئی نقصان نہ ہو گا اور آخر میں تم بری کئے جاؤ گے ۔ انگریز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس صاحب جو بعد میں چیف کمشنر انڈمان ہوئے ان کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہوا اور لوگوں میں خوب خوشیاں کی جانے لگیں کہ اب مدعی مسیحیت خوب سزا پائے گا۔ مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلے مسیح کے وقت پیلاطوس پر حق کھول دیا تھا اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا اور کپتان ڈگلس کا دل اس نے کھول دیا اور اس نے بیان سن کمر صاف کہہ دیا کہ مقدمہ بناوٹی معلوم ہوتا ہے اور خبر دینے والا جھوٹا معلوم ہوتا ہے اور انہوں نے انگریز سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ پورے طور پر تحقیق کر کے رپورٹ کریں۔ انہوں نے یہ دیکھ کر خبر دہندہ مشن کمپاؤنڈ میں رہتا ہے شاید ان کے اثر کے نیچے اپنے بیان لکھوا رہا ہو۔ اس کو وہاں سے بلوالیا اور پھر بیان لیائین وہ شخص ں پادریوں سے اس قدر ڈرا ہوا تھا کہ پھر بھی اس نے وہی باتیں کہیں جو پہلے کمی تھیں مگر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اس سے کہا کہ جو کچھ راست راست ہے وہ بتاؤ اور اب ہم تمہیں مشن میں نہیں بھیجیں گے۔ جب اسے یہ تسلی ہو گئی کہ وہ واپس مشن کے حوالہ نہ کیا جائے گا تو وہ چیخیں مار کر رو پڑا اور اس نے کہا جو کچھ مجھ سے کہلوایا گیا ڈرا دھمکا کر کہلوایا گیا ورنہ مرزا صاحب بالکل بری ہیں انھوں نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔ پادریوں نے مجھے دھمکا کر کہ اگر تو ہماری مرضی کے مطابق رپورٹ نہ کرے گا تو تجھ پر کوئی الزام لگا کر پڑوا دیں گے مجھ سے یہ سب باتیں کہلوائی تھیں ۔ آخر جیسا کہ پہلے سے بنا دیا گیا تھا آپ عزت کے ساتھ بری ہوئے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن ڈگلس نے کہا کہ آپ کو اختیار ہے کہ آپ ان لوگوں پر جھوٹا الزام لگانے کے متعلق عدالت میں چارہ جوئی کر کے ان کو سزا دلوائیں مگر آپؐ نے فرمایا ہمارا یہ کام نہیں ہم نے ان کو معاف کر دیا۔ اس مقدمہ میں دوسرے مذاہب کے سرداروں نے بھی آپ کو زک دینے کے لئے پورا زور