انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 504

انوار العلوم جلد 4 ۵۰۷ تحفه شهزاده و بلیز افسوس ! ان نادانوں نے پہلے نبیوں سے سبق نہ سیکھا بلکہ خود مشیح کے حالات سے سبق نہ نے پہلے نبیوں سے بھی دیکھا کہ خود دین کے حالات سے سبق نہ سیکھا اور نہ معلوم کیا کہ کس طرح خدا کے کلام میں تشبیہ میں ہوتی ہیں اگر اس کلام میں تشبیہیں نہیں تو بنائیں کہ آج اس علمی زمانہ میں دیووں کے نکالنے کے کیا معنی ہوں گے ؟ اسی طرح ایک دفعہ آپ کو شرمندہ کرنے کی یہ تدبیر کی کہ ایک اشتہار دیا کہ ہم ایک تحریر لکھ کر لفافہ میں بند کر دیتے ہیں آپ اس کو پڑھ دیں۔ آپ نے جواب دیا کہ میں اس بات کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ ایک جماعت پادریوں کی دستخط کر دے کہ اگر میں نے تحریر پڑھ دی تو وہ اسلام قبول کرلیں گی؟ لیکن کسی کو اس کے بعد مقابلہ پر آنے کی جرات نہ ہوئی۔ غرض اسی طرح کئی جگہ آپ نے حق پہنچانے کے لئے سفر کئے اور ظالم لوگوں سے بہت تکالیف دیکھیں، گالیاں بھی سنیں ، لوگوں نے پتھر بھی مارے، گھر پر حملہ بھی کیا ۔ بعض دفعہ لوگ دور تک آپ کا پیچھا کرتے تا اگر ہو سکے تو پکڑ کر قتل کر دیں مگر خدا تعالیٰ نے سب کو نا کام رکھا اور اس مخالفت کے زور کے وقت آپ بار بار شائع کرتے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہ مجھے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا اور وہ مجھ کو پہلے مسیح کی طرح دکھ نہ دے سکیں گئے بلکہ اس دفعہ ان کو ظاہری خوشی بھی نصیب نہ ہو گی ۔ اور آپ کے مخالف آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کی غرض سے آپ کے مارنے کے لئے اور بھی زیادہ کوشش کرنے لگے اور بعض لوگوں کو لالچ دے دے کر مارنے کے لئے بھیجا مگر ہر دفعہ ان کا حملہ ناکام رہا اور یا تو بد نیست دشمن موقع ہی نہ پاسکا اور اس کی نیت کا پہلے سے ہی پتہ لگ گیا اور یا یہ ہوا کہ وہ آپ کے سامنے آکر آپ کی روحانی طاقت سے ایسا متاثر ہوا کہ خود ایمان لے آیا اور بجائے آپ کو مارنے کے خود اپنی جان آپ پر قربان کرنے کے لئے تیار ہوا یا کم سے کم سچائی سے ایسا متاثر ہوا کہ اس نے اصل راز ظاہر کر دیا۔ غرض ہر تدبیر میں دشمن ناکام رہے۔ ایک دفعہ آپ نے یہ دیکھ کر کہ مخالف لوگوں کو باتیں سننے ہی نہیں دیتے یہ تدبیر کی کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ زندہ مذہب کی یہ علامت ہے کہ وہ اپنے اندر زندگی کی روح رکھتا ہولیس بجائے بحثوں اور جھگڑوں کے چاہئے کہ ہم خدا سے اپنی سچائی کی شہادت طلب کریں جس کی خدا شہادت دے اس کی صداقت پر یقین لے آویں اور اس کے لئے چاہتے کہ یا تو دُعا کے ذریعے سے مقابلہ ہو۔ یا اس طرح کیا جائے کہ میرے پاس لوگ آکر چالیس دن تک رہیں اگر اس عرصہ میں وہ کوئی تازہ نشان نہ دیکھیں تو بے شک مجھ کو اور میرے مذہب کو جھوٹا کہیں اور اگر