انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 483

انوار العلوم جلد 4 ۴۸۳ تحفه شهزاده ویلیز کرتے رہے اور جو اپنے وقت پر پوری ہوتی رہی ہیں تو اس زمانہ کے فرستادہ اور رسول کی صداقت بھی اسی ذریعہ سے پرکھی جا سکتی ہے اور چونکہ نبیوں کے ذریعہ سے دو قسم کے نشان ظاہر ہوتے ہیں ایک تو ان کی زندگی اور تعلیم ہی نشان ہوتی ہے دوسرے وہ نشان ہوتے ہیں جو دوسروں کی ذات میں ظاہر ہوتے ہیں اس لئے میں دونوں قسم کے نشان بیان کرتا ہوں اور پہلے آپ کی معجزانہ زندگی اور آپ کی تعلیم اور آپ کے کام کو بیان کرتا ہوں۔ اے شہزادہ با وقار ! اللہ تعالیٰ آپ کے سینہ کو حق کی قبولیت کے لئے دل دے ! اس زمانہ کے نامور اور مرسل قادیان ضلع گورداسپور صوبہ پنجاب کے رہنے والے تھے اور اسی جگہ آپ پیدا ہوئے تھے اور آپ کا نام آپ کے ماں باپ نے غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام ) رکھا تھا ۔ وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جو حضرت مسیح کے خاندان کی طرح بڑے بڑے خاندانوں سے ملتا تھا اور مغلوں اور فارسیوں کے شاہی خاندانوں کی نسل سے تھا اور ہندوستان میں صرف چند پشتوں سے آکر لیسا تھا مگر حضرت مسیح کے خاندان کی طرح اس کی حالت اس وقت اسقدر غربت کی تھی کہ اپنی پہلی شان و شوکت کو وہ بہت کچھ کھو چکا تھا۔ آپ کے دادا سکھوں کی طوائف الملوکی کے زمانہ میں ایک سکھ قبیلہ سے جنگ کرتے ہوئے اپنی ریاست کو کھو بیٹھے تھے۔ گو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان کی جائداد میں سے پچاس گاؤں واگزار کرکے اور اپنی فوج میں اعلیٰ عہدہ دیگر ان کے والد کو پھر دنیاوی لحاظ سے آسودہ حال بنا دیا تھا مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس خاندان سے کچھ اور کام ہے ۔ پیس اس نے سکھ حکومت کو تباہ کر کے برطانیہ کی حکومت کو پنجاب میں قائم کر دیا اور اس کی آمد کیساتھ ہی اس ریاست کا بھی خاتمہ ہو گیا جو اس خاندان کو سینکڑوں سال سے حاصل تھی۔ برٹش گورنمنٹ کے نمائندوں نے بڑے مرافعوں کے بعد صرف ایک گاؤں کی ملکیت اور تین گاؤں کی تعلقہ داری آپ کے والد کے لئے منظور کی اور باقی سب جائداد ضبط کی گئی مگر اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ جس خاندان کو دین میں عزت دینا چاہتا ہے اس کو وفاداری کے مقام پر کھڑا کر دیتا ہے ۔ باوجود اس کے کہ آپ کے والد کو برٹش گورنمنٹ سے سخت نقصان پہنچا تھا آپ ہمیشہ اس کے وفادار اور جان نثار رہے اور تنگی اور ترشی میں اسی طرح اس کا ساتھ دیا جس طرح کہ سکھ گورنمنٹ کا ساتھ دیا تھا اور غدر کے موقع پر جبکہ عام طور پر ملک میں برطانوی حکومت کے خلاف جوش پیدا ہو گیا تھا اور خصوصاً پرانے خاندانوں میں آپ نے اپنی طاقت سے زیادہ گورنمنٹ کی مدد کی اور پچاس سوار پیش کئے اور آپ کے بڑے بیٹے بانی سلسلہ کے بڑے بھائی جنرل نکلسن کے ساتھ خود ج سن کے ساتھ خود جنگ میں شریک ہوئے اور ترموں گھاٹ پر باغیوں کے