انوارالعلوم (جلد 6) — Page 35
انوار العلوم جلد 4 ۳۵ معیار صداقت اور کچھ نہ تھی اور پھر تمام ہندوستان کے مسلمانوں کا قادیان میں جمع ہو کر علماء کی مدد کرنے سے سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا تھا کہ کوئی فتنہ اُٹھایا جائیگا ۔ اگر علماء نے محض مسائل بیان کرنے تھے تو ہندوستان کے عوام ان کی کیا مدد کر سکتے تھے ۔ ہاں جب علماء کی نیت فتنہ ڈلوانے کی تھی اس وقت ضرورت تھی کہ لوگ ان کی مدد کرتے ۔ ان باتوں سے ظاہر ہے کہ ان کی نیت اچھی نہ تھی ساتھ ہی امرتسریں مولویوں کی حرکتیں ا ا ا ا ا ا ا ا ہو نے والوں میں سے ہے جبکہ ہم ان علماء کہلانے والوں میں سے بعض کی وہ حرکتیں میں دیکھ چکے تھے جو پچھلے سال امرتسر میں میرے لیکچر کے دوران میں انہوں نے کی تھیں تو ہمارے دلوں ان پر حسن ظنی کرنے کی کوئی وجہ بھی باقی نہ رہتی تھی ۔ امرتسر میں جو کچھ ان لوگوں نے کیا جن لوگوں نے اس کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح بعض مولوی کہلانے والوں نے قلندروں کی سی حرکتیں کیں۔ کسی طرح وہ اچھلے تھے اور آگے پیچھے پھر کتے پھرتے تھے اور صفحہ صفحہ، سطر سطر اور ہے اور مطبع مطبع پوچھتے تھے ۔ اس وقت پولیس والے ان کو سمجھاتے تھے۔ مجسٹریٹ ان کو ان کو روکتے تھے ت پولیس والے ان کو سکھاتے تھے بیٹریٹ ان کو رو مگر وہ نہیں رکھتے تھے ۔ حالانکہ صفحہ سطر کی بحث تب ہوتی جب کوئی ایسی کتاب ہوتی ہے جسے وہ نہ جانتے تھے یا کوئی غیر معروف حوالہ ہوتا ۔ بلکہ ایک ایسی کتاب جس کو ہم اور وہ دونوں مانتے بلکہ ایسی تھے اور جو درسوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس کے متعلق اس قسم کا مطالبہ پھر لیکچر کے دوران میں نہایت ہی تہذیب سے گری ہوئی بات تھی۔ اگر وہ لوگ اس حدیث کے وجود ہی کے منکر ہوتے تب بھی ان کا مطالبہ حق بجانب ہوتا۔ مگر دلوں میں جانتے ہوئے کہ ایسی حدیث موجود ہے یہ شور مچانا ان کی گری ہوئی حالت کا شاہد تھا ۔ اس نظارہ کے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ کبھی وہ کرسی پر چڑھتے تھے کبھی نیچے اُترتے تھے اور شور کرتے تھے کہ ہمارا خون ہو جائیگا تب ہم بولنے دینگے اور وہ بندروں کی طرح پھدک رہے تھے۔ اس وقت جو معزز ہندو اور سکھ صاحبان بیٹھے تھے ان میں سے بعض نے کہا کہ غصہ تو ہمیں ہونا چاہئے تھا کہ ہمارے مذہب کا نقص ظاہر کیا جا رہا تھا کیونکہ میں اسوقت ہندو مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر رہا تھا، یہ لوگ کیوں شور مچاتے ہیں ہیں امرتسر کے واقعہ کویاد کرکے علماء کہلانیوالوں میں سے بعض کے متعلق ہم جس قسم کے فتنہ کی بھی امید کرتے تھے بدلنی نہیں کہلا سکتی۔ علاوہ ازیں ہمیں مختلف مقامات سے خطوط ملے جن میں لکھا تھا کہ غیر احمدیوں میں مشہور ہے کہ اس دفعہ قادیان میں غیر احمدیوں کا جلسہ ہو گا جس میں وہ احمدیوں کے ساتھ وہ سلوک کرینگے جو بد ترین ہوگا ۔ بلکہ ریلیوں میں راولپنڈی سے امرتسر تک لوگوں کو اس طرح جوش دلایا جاتا تھا کہ