انوارالعلوم (جلد 6) — Page 36
بسته انوار العلوم جلد 4 ۳۶ معیار صداقت چل کر ایک دفعہ اس جماعت کا فیصلہ کر دینا چاہئے اور بہت سے گندے منصوبوں کا اظہار کیا جاتا تھا یہ افواہیں تھیں جن کے باعث کسی پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔ لیکن اگر یہ افواہیں صداقت کا جامہ پن لیتیں تو کیا ہوتا ۔ اگر ہم پہلے سے تیار نہ ہوتے تو پھر اس کا کیا اثمہ ہو سکتا تھا۔ ہم نے تو گورنمنٹ کے افسران کو ، یہاں کے ڈپٹی کمشنر قادیان میں ہمارے مقدس مقامات صاحب کو گورنمنٹ پنجاب کے سیکرٹریوں کیو لکھ دیا تھا کہ قادیان میں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہمارے لئے قادیان لئے قادیان کے بعض مقامات دیسے ہی مقدس ہیں جیسا کہ ہمارے نزدیک اور دوسرے انبیاء کے ماننے والے لوگوں کے نزدیک ان انبیاء کے مقامات مقدس ہیں ۔ پس اگر کوئی شخص ان مقامات کے خلاف کوشش کریگا اور کوئی فتنہ بر پا کرنے کی سعی کریگا تو ہم پہلے فنا ہو لینگے تب وہ ان مقامات کی طرف قدم بڑھا سکی گا ۔ اورافسروں نے تسلیم کیا تھا کہ قانوناً جو شخص فتنہ کھڑا کرتا ہے وہی مجرم ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ ایک فریق نے دوسرے کے حملہ سے بچنے کے لئے مقابلہ کیا تھا تو وہ قابل سزا نہیں اور حکام نے فتنہ کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کا بھی وعدہ کیا ۔ پوزیشن غرض ہم نے قبل از وقت حکام کو بی اطلاع دے دی اور خود بھی اپنا ہماری پور انتظام کیا اور ہم نے قادیان کے وہ حصے مخصوص کر لئے جن میں۔ میں ہم ہی ہم آباد ہیں ۔ صرف دو گھر غیروں کے ہیں۔ ہم نے ان مقامات پر اپنا پہرہ لگا دیا اور اپنے پرہ داروں کو ہدایت کر دی کہ وہ ان لوگوں کو جن کے گھر ہمارے محلہ میں ہیں آنے سے نہ روکیں اور نہ ان کے مہمانوں کو اور نہ ان کے ملنے والوں کو رہاں اگر کوئی اور شخص اِدھر آنا چاہے تو چونکہ اس کا کوئی کام ہمارے ہاں نہیں اس کو ادھر مت آنے دور کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اس طرح دھوکا دیکھ ہمارے گھروں میں آجائیں ۔ پنجاب میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ لوگ دھوکا دیگر آئے اور آگر فتنہ کیا۔ میں جانتا ہوں کہ یہاں بھی ان لوگوں نے ہم پر بزدلی کا الزام لگایا ہے کیا ہم بزدل ہیں اور باہر جا کربھی نہیں بزدل کہیں گے مگران کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ بھی ہیں بزدل نہیں کے نگران کو میں کہنا چاہتا اگر بزدلی دشمن کے بدا رادوں کو معلوم کر کے اپنی حفاظت کے لئے چوکس ہو جانے اور اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جانے کا ہی نام ہے تو ہم بزدل ہیں لیکن وہ اس کا کیا نام رکھتے ہیں کہ بقول ان کے نگاری نام ہیں لیکن اس کیا نام ہیں کہ ان کے انہوں نے اپنے مقدس مقامات اور اپنے خلیفہ المسلمین کے شہر پر اور اس کی فوجوں پر خود قبضہ کیا اور