انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 34

انوار العلوم جلد 4 ۳۷ معیار صداقت لوگوں کو تعجب ہوتا ہوگا اور ممکن ہے کہ جو لوگ آتے ہی کسی کام پر لگا دیئے گئے ان کو خیال ہو کہ کیا وجہ تھی جس کے باعث ہمیں یہ انتظام کرنا پڑا اور یہ ضرورت کیوں پیش آئی قادیان میں پہلے بھی جلسے ہوئے ، آریوں کے جلسے باقاعدہ ہوتے ہیں، سکھوں کے جلسے بھی باقاعدہ ہوتے ہیں، غیر احمدیوں کا جلسہ بھی کا جلسہ بھی پیچھے دو تین سال ہوئے ہوا تھا اور ان کے علماء آتے ر اور ان کے علماء آتے رہتے ہیں، وعظیں کرتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے دنوں مولوی نور احمد صاحب ساکن لکھو کے بیاں آئے۔ ان کے ساتھ ہمارے بعض دوستوں کا ہر میر باز بازار مباحثہ بھی ہوا کھلے نوں جو باقاعدہ جلسہ غیر احمدیوں کا ہوا تھا اس میں ان کے اور مولویوں کے علاوہ مولوی ثناء اللہ صاحب بھی آئے تھے مگر ان مواقع میں سے ہم نے کسی موقع پر کوئی ایسا انتظام نہیں کیا تھا ۔ پھر اس دفعہ کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ یہ انتظام کیا گیا ؟ ہمارے دشمنوں کے ناپاک ارادے اس کے لئے یادرکھو کہ ہم یہ کرتے مگر تاری ناپاک آنکھوں نے بعض خاص باتیں لکھیں اور ہارے آنکھوں۔ کانوں نے سنیں اس لئے ہمیں احتیاطاً یہ انتظام کرنا پڑا ۔ ہم چھ مہینے سے ان کے جلسہ کے لئے یہ پڑا۔ ہم چھے متعلق سن رہے تھے مگر ہمیں اس کے متعلق کچھ خیال نہ تھا نہ ہم نے اس کے لئے باہر اپنے ے تھور نہیں اس کے متعلق مجھے خیال نہ تھا نہ ہم نے اس کے آدمیوں کو اطلاع دی تھی نہ ہمیں کسی تدبیر کا خیال تھا۔ لیکن چند ہی دن ہوئے جبکہ مجھے ایک ایلیگیشن کی شہادت کے لئے لاہور جانا پڑا تو ایک دن صبح کی نماز کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ لاہور کے تمام بڑے بازاروں میں قریباً ہر دس میں گز کے فاصلہ پر ایک بڑا اشتہار چسپاں ہے جس میں لکھا ہوا تھا کہ :۔ " قادیانی جماعت کے کافۃ المسلمین کے خلاف مذہبی مسائل کا تصفیہ اور اختلاف " کا سد باب کرنے کے لئے علماء ہند کا ایک عظیم الشان جلسہ ہوگا ۔ داشتهار بعنوان جمعیتہ العلماء اور مرزائی جماعت قادیانی ) ( اسی وقت ایک دوست نے ایک اخبار کا کٹنگ دکھایا جس میں لکھا تھا کہ خلافت کے بارے میں چونکہ احمدی لوگ عام مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں اس لئے ان کے اقوال و افعال کا سدباب کرنے کے لئے علماء ہند قادیان جائینگے۔ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کی مدد کریں ۔ ( پایه اخبار ) اب یہ ظاہر ہے کہ افعال کا سد باب دلائل سے نہیں ہوا کرتا کیونکہ ہمیشہ بات کا جواب بات ہوتی ہے اور افعال کا افعال سے بیس افعال کے سدباب کی نیت سے جو قوم چلی تھی اس کی غرض فتنہ کے سوا