انوارالعلوم (جلد 6) — Page 469
انوار العلوم جلد 4 ۴۶۹ تحفه شهزاده ویلیز جس طرح ایلیا کی آمد ثانی تھی یعنی ان کی طبیعت اور ان کی قوت کے ساتھ کے ساتھ ایک شخص ظاہر ہو گا اور ایسا ہی ہوا جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے اور جسکے کان سننے کے ہوں سنے تا ایسا نہ ہو کہ جسں طرح یہود نے ظاہر لفظوں پر جا کر ایک نادر موقع کو ہاتھ سے جانے دیا اور اب تک انتظار کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں اسے بھی انتظار اور حسرت کے سوا کچھ میسر نہ آئے اور خدا کی بادشاہت کے درواز سے اس پر بند کر دیئے جاویں۔ اے ولی عہد ! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہوا اور آپ کے دل کو حق کے قبول کرنے کے لئے کھول دے ! جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ آنے والے نے مسیح علیہ السلام کی طبیعت اور ان کی قوت میں ظاہر ہونا تھا نہ کہ خود مسیح علیہ السلام نے آسمان سے اترنا تھا۔ ہیں ہمیں آنے والے مسیح کے پہچاننے کے لئے اس ہوشیار غوطہ خور کی طرح جو ہر قسم کے بندھنوں اور روکوں کو دور کر کے سمندر میں غوطہ مارتا ہے تا موتی نکالے (نہ کہ ظاہر میں آسمان کی طرف سکتا ہے کہ اس کی طرف موتیوں کی بارش کی جائے اور دل سے آسمانی قوانین کا منکر ہوتا ہے، پیشگوئیوں کے الفاظ میں تدبر کرنا چاہئے اور ان کے صحیح مطلب کو سمجھنے اور ان سے مسیح کی شناخت کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا نہ ہو کہ جب اس کے آنے کی خبر ہو تو ہم ان عورتوں کی طرح جنہوں نے اپنے ساتھ تیل نہ رکھا تھا ادھر ادھر تیل کی تلاش میں پھرتے رہیں اور دولہا اپنے انتظار میں چوکس بیٹھنے والی کنواریوں سمیت محل میں داخل ہو جائے اور اس کے دروازے ہمارے لئے بند کر دیئے جائیں اور ہمارے لئے صرف رونا اور دانت پیسنا ہو۔ رمتی باب ۲۵ آیات ۱ تا ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۶۱۸۷۰ ) وہ پیشگوئیاں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی آمد ثانی کے متعلق بیان فرمائی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بعثت اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کہ یروشلم میں اس مکروہ چیز کی قربانی نہ کی جائے جس کی کراہت یہود میں اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ اس کا نام بھی لینا پسند نہ کرتے تھے اور اس سے انہوں نے یہ جتنا دیا تھا کہ کسی قریب کے زمانہ میں ان کی بعثت مقدر نہیں بلکہ ایک بعید زمانہ میں مقدر ہے۔ اس وقت تک اگر کوئی مسیحیت کا دعویٰ کرے تو حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہوگا اور تم اس کو قبول نہ کیجیو۔ مگر جبکہ قوموں پر قومیں چڑھیں اور طاعون دنیا میں پھیلے اور لڑائیاں بکثرت ہوں اور زلزلے آویں اور قحط لوگوں کی زندگیوں کو بدمزہ کر دیں اور فساد دنیا میں پھیل جائے اور اس کے ساتھ سورج اور چاند بھی اندھیرے ہو جائیں اور آسمان سے ستارے گریں اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں تب ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا اور وہ جلال کے ساتھ