انوارالعلوم (جلد 6) — Page 470
انوار المعلوم جلد 4 ۴۷۰ تحفه شهزاده و نمیز آسمان سے اترے گا۔ اب ہر شخص جو ان علامات پر غور کرے گا معلوم کرلے گا کہ یہ سب کچھ واقع ہوگیا۔ طاعون بھی پڑی اور ایسی پڑی کہ اس سے پہلے دنیا میں کبھی ایسی سخت ہلاک کر دینے والی طاعون اور اس قدر وسیع علاقہ میں نہ پڑی تھی۔ زلزلے ایسے سخت آئے کہ ان کی نظیر کسی پچھلے زمانہ میں نہیں ملتی۔ قحط باوجود نہروں کے جاری ہونے اور ریل اور دُخانی جہازوں کے نکل آنے کے ایسے سخت پڑے ہیں کہ دنیا کی زندگی کو انہوں نے بدمزہ کر دیا ہے ۔ روز بروز اجناس مہنگی ہی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ فساد اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ بھائی بھائی کو نہ صرف پڑھواتا بلکہ اس پکڑے جانے پر خوش ہوتا ہے اور یہ سب علامتیں ایسی وضاحت سے پوری ہو گئی ہیں کہ ان کے متعلق کسی کو بھی شبہ نہیں ۔ ہاں سورج اور چاند کے اندھیرے ہونے اور ستاروں کے گرنے اور آسمانی قوتوں کے بل جانے کے نشانات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا ابھی پورے نہیں ہوئے۔ مگر ہر ایک جو آسمانی نوشتوں پر فکر کرنے کا عادی ہے اور خدا کے قانون کو بھی سمجھتا ہے جانتا ہے کہ ان الفاظ کے کیا معنی ہیں ؟ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اگر سورج واقعہ میں اندھیرا ہو جائے گا تو پھر اس دنیا میں بنے کی انسان کے لئے کوئی صورت نہ ہوگی اس کی زندگی سورج کی روشنی پر منحصر ہے اور سورج کے اندھیرے ہو جانے سے اس دنیا پر انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور اسی طرح اگر ستارے گر جائیں تو ساتھ ہی یہ دنیا بھی تباہ ہو جائے کیونکہ یہ تمام عالم ایک دوسرے سے پیوستہ ہے اور ایک کا قیام دوسرے کے قیام کا موجب ہے اور اگر آسمانی قوتیں ہل جائیں تو پھر تو انسان چھوڑ فرشتوں کے لئے بھی کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ابن آدم نیکو کاروں کو دنیا کی میراث سونپ دے گا اور شریروں سے حکومت چھین لے گا لیکن سورج اور چاند کے فی الواقع اندھیرا ہو جانے اور ستاروں کے گر جانے سے تو دنیا ہی تباہ ہو جاتی ہے اور مسیح کا نزول اور نیکو کاروں کا دنیا کی میراث لینا بالکل نا ممکن ہو جاتا ہے ۔ پس ضرور ہے کہ جس طرح آسمانی نوشتوں کا قاعدہ ہے اس پیشگوئی کے الفاظ کے نیچے کوئی اور مطلب پوشیدہ ہو اور وہ یہی ہے کہ اس زمانہ میں سورج اور چاند کو گرہن لگے گا اور اسمان سے کثرت سے شرب گریں گے کہ وہ بھی عرف عام میں ستارے ہی کہلاتے ہیں اور مذہبی لیڈروں کا اثر اپنے مقتداؤں پر سے کم ہو جائے گا کہ مذہبی علم ادب میں آسمانی طاقتوں سے مذہبی رہنما مراد ہوتے ہیں ۔ بیشک یہ علامتیں بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہی کیونکہ سورج اور چاند کو تو ہمیشہ ہی گرہن لگتا ہے