انوارالعلوم (جلد 6) — Page 468
انوار العلوم جلد 4 vhal شخصه شهزاده و علیز * جو آنے والا تھا یوحنا ہی ہے چاہو تو قبول کرو پس وقت پر ظاہر ہوا کہ آسمان پر سے الیاس کے آنے سے مراد سی تھی کہ یوحنا جیسا کہ فرشتہ نے اس کی پیدائش سے بھی پہلے بتا دیا تھا میچ کے آگے الیاس کی طبیعت اور قوت کے ساتھ چلے گا " لوقا باب آیت ، پھر لوگوں کو کیا ہوا کہ خدا کے نوشتوں میں آسمان پر سے آنے کا محاورہ پڑھ کر اور خود شیخ سے اس کی تشریح سن کر ان الفاظ سے ٹھو کر کھاتے ہیں کہ مسیح آسمان پر سے آئے گا ۔ کیا خدا کے فرشتہ نے زکریا سے نہ کہہ دیا تھا کہ الیاس کے آسمان پر سے آنے سے مراد ایک اور برگزیدہ شخص کا اسی کی طبیعت اور اسی کی قوت کے ساتھ آنا تھا اور کیا خود شیخ نے نہ فرما دیا تھا کہ الیاس کا آسمان سے آنا ہی تھا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا اس کی خوبو کے ساتھ آئے ؟ اور کیا نہ کہا گیا تھا کہ جس کسی کے کان سننے کے ہوں وہ مہنے مگر افسوس ! سے کہ لوگوں نے پھر بھی نہ سنا اور پھر پھر بھی اسی دھوکے میں پڑے جس میں مسیح کی کی آمد آمد اول کے وقت فقیمی اور فریسی پڑے تھے اور سمجھا کہ مسیح واقع میں آسمان سے سمان سے اُترے گا ۔ کیا وہ لوگ جو مسیح کے آسمان پر سے اُترنے کے منتظر ہیں انہوں نے مقدس نوشتوں کی ان پیشگوئیوں پر بھی نظر نہ کی جن میں مسیح کی آمد ثانی کی خبر دی گئی تھی ؟ کیا انہوں نے پڑھا نہ تھا کہ میچ نے کہا کہ : " خبر دار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے امتی باب ۲۴ آیت دام اگر فی الواقع اس نے آسمان پر سے ہی آتا تھا تو اس نے کیوں کہا کہ بعض نشانوں سے دھوکا نہ کھانا جب تک دوسرے بھی پورے نہ ہو جائیں ؟ اگر اس نے آسمان پر سے اترنا تھا تو کیا وہ یوں نہ کہتا کہ وہ زمین پر پیدا ہوں گے اور میں تو آسمان پر سے آؤں گا اس لئے کسی کو دھوکا لگ ہی نہیں سکتا ؟ وہ کیوں ان جھوٹے مسیحوں کے دعویٰ پر صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے؟ اور انتظار کا حکم دیتا ہے ؟ اور نہیں کہتا کہ جو آسمان سے آئے اسے قبول کرو اور جو نہ آئے اسے قبول نہ کرو ؟ اور نہ ایسے تین نشان کے ہوتے ہوئے اور کوئی نشان کیوں بتاتا ہے ؟ پھر اگر مسیح کی ہی تعلیم تھی کہ وہ آسمان پر سے ظاہر ہوگا تو شاگردوں نے اس سے کیوں پوچھا کہ تیرے آنے کا نشان کیا ہوگا ؟ کیا پوچھا تیرے آنے میشیح کے آنے کا یہ کم نشان تھا کہ وہ آسمانوں پر سے فرشتوں کی فوج سمیت آئے گا ؟ اور کیا اس طرح آنے والے کے متعلق لوگ دھوکا کھا سکتے تھے؟ بات یہی ہے کہ مسیح علیہ السلام تمثیلوں میں کے کھا تھے یہ ہے کہ سی علیہ کلام کرنے کے عادی تھے اور ان کے کلام کا یہی مطلب تھا کہ ان کی آمد ثانی اسی رنگ میں ہو گی عہ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء