انوارالعلوم (جلد 6) — Page 467
انوار العلوم جلد 4 تحفه شهزاده ویلیز مگر افسوس ! کہ مسیح کے کلام پر غور نہ کیا اور جو کچھ اس نے تمثیلوں میں سمجھایا تھا اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی اور اس پر ایمان لاتے ہوئے اس کے منکروں کی طرز اختیار کی۔ اس نے تو خود سمجھا دیا تھا کہ کوئی آسمان پر نہیں گیا۔ سوا اس شخص کے جو آسمان پر سے اترا" ا یوحنا باب ۳ آیت ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۶۱۸۷۰ ) پھر ان لوگوں نے کیونکر جانا کہ وہ جو ناصرہ میں پیدا ہوا وہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر گیا اور دوبارہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر سے اُترے گا ؟ یقینا وہ اسی طرح آسمان پر گیا جس طرح وہ اترا تھا اور دوبارہ بھی اس نے اسی طرح آنا تھا جس طرح کہ وہ پہلی دفعہ آیا تھا ۔ ہر ایک جو ٹھو کر کھاتا ہے افسوس کے قابل ہے مگر اس کی حالت بہت ہی زیادہ قابل افسوس ہے جو دوسرے کو ٹھو کر کھاتے ہوئے دیکھتا ہے اور پھر نہیں سنبھلتا کیونکہ پہلا کر سکتا تھا کہ ہمیں بے خبری میں گرا کیونکہ مجھ سے آگے کوئی چلنے والا نہ تھا کہ راستہ کی خرابی مجھ پر ظاہر کرتا مگر پچھلا کوئی عذر مجھ سے نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے اپنے اگلے کو گرتے دیکھا اور پھر بھی نہ سنبھلا اور وہیں قدم مارا جہاں پہلے نے مارا تھا اور ٹھوکر کھائی تھی نہیں یہ زیادہ سزا کا مستحق ہوگا کہ بات کے ظاہر ہو جانے پر بھی اس نے سبق حاصل نہ کیا ۔ کیا ملا کی نبی کی کتاب میں نہ لکھا تھا کہ دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر ہمیں الیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔ ملا کی باب ۴ آیت ۵ نارتھ انڈیا بائیل سوسائٹی، مرزا پور مطبوعہ : ۱۸۷ء ) پھر کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ایلیا نبی آسمان سے نازل نہ ہوا بلکہ زمین پر یوجنا کی شکل میں ظاہر ہوا اور انہوں نے جو اپنے دلوں میں کجی رکھتے تھے اس کے سبب سے ٹھوکر کھائی اور مسیح پر ہنسی ٹھٹھا کیا اور کہا کہ اگر تو مسیح ہے تو الیاس کہاں ہے جس کا مسیح سے پہلے آنا ضروری تھا بلکہ خود اس کے شاگردوں تک نے اس سے پوچھا کہ " پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ پہلے الیاس کا آنا ضرو رہے " دمتی باب ۱۷ آیت ۱۰ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء ) کیونکہ خدا کے راز بھی ظاہر ہوتے ہیں جب ان کے ظاہر ہونے کا وقت آجاتا ہے اور انہی پر ظاہر ہوتے ہیں جن پر خدا کے علوم کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔ چنانچہ مسیح نے لوگوں کو بتایا کہ الیاس