انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 434

انوار العلوم جلد 4 ۴۳۴ هستی باری تعالی چنانچہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (الاعراف : ۱۸۱) که خداتعالیٰ کے اندر سب صفات حسنہ پائی جاتی ہیں اس لئے جو ضرورت تمہیں پیش آئے ان کے ذریعہ اس حسنه یا سے ۔ مانگو ۔ اس آیت سے دُعا کرنے کا بھی یہ نکتہ معلوم ہو گیا کہ جو چیز مانگنی ہو اس کے مطابق جو صفت ہو اس کے ذریعہ سے مانگنی چاہئے۔ پس صفات کا باریک علم دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہوتا ہے اور جو اس علم کا پتہ لگا لیتا ہے اس کی دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے اور جو خدا تعالیٰ کی صفات کا زیادہ علم رکھے گا اس کی دُعا میں بھی سب سے زیادہ قبول ہوں ہوں گی۔ سب سے زیادہ دُعا کیلئے مناسب صفت ب صفت کو کس طرح منتخب کرے ؟ ب کرے ؟ اگر یہ سوال کیا جائے کہ دعا کے لئے صفات الہیہ کا انتخاب کسی اصل پر ہونا چاہئے ؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مثلاً جو تکلیف ہے وہ کیوں ہے ؟ اور پھر اس وجہ کو مد نظر رکھ کر جس صفت کے ذریعہ سے دعا کرنا مناسب ہوگا اس کے ذریعہ سے دُعا کی جائے گی۔ ظاہری علوم میں بھی اس کی مثال دیکھ لو ایک شخص کے پیٹ میں درد ہوتی ہے تو اسے طبیب کسٹر آئل دیتا ہے۔ ایک دوسرے کو پیپر منٹ تیسرے کو قے کراتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ یہی کہ گو ہے تو سب کے پیٹ میں ہی درد لیکن سبب مختلف ہیں۔ اس طرح انسان کی تکالیف کئی اسباب سے ہوتی ہیں ۔ مثلاً فرض کو لے لو کبھی قرض اس وجہ سے چڑھ جاتا ہے کہ انسان سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جاتا ہے جس کی مناسب منرا اسے مالی تنگی کا پہنچنا ہوتی ہے کبھی اس کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ خدا دیکھتا ہے کہ اگر اس کو زیادہ مال دوں گا تو گمراہ ہو جائے گا۔ کبھی اس کی وجہ اس کی سستی ہوتی ہے یہ اس قدر آمد نہیں پیدا کرتا کہ سال کا خرچ چل سکے ۔ یا مثلاً کسی پر ذرائع آمد کے محدود ہونے کے سبب سے قرض ہو جائے گا ۔ یہ چاروں ۔ - یہ چاروں باتیں خدا تعالیٰ کے الگ الگ اسموں کے نیچے آئیں گی اگر کمی آمد کی وجہ سے قرض ہو تو انسان کہے گا کہ اسے باسط ! مجھے رزق میں فراخی دے تب خدا اسے رزق دے گا لیکن اگر اس کی سستی کے سبب سے اس کی آمدن کم ہے تو وہ یہ دعا کرے گا کہ اسے قیوم ! مجھے چیستی عطا فرما اور اگر گناہ کے سبب سے مقروض ہے تو کہے گا کہ اسے غفورا مجھے بخش دے اور اگر اس سبب سے تنگی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ شخص فراخی رزق کے ساتھ ایمان کو سنبھال نہیں سکتا تو اس طرح دعا کی جائے گی کہ اے ہادی ! مجھے مضبوطی ایمان بخش غرض صفات الہیہ کے ماتحت دعا کرنا ایک مستقل علم ہے اور میں نے صرف موٹی موٹی