انوارالعلوم (جلد 6) — Page 433
انوار العلوم جلد 4 ۴۳۳ ہستی باری تعالیٰ یا مثلاً بعض لوگوں کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے مگر دنیا میں کوئی شخص نہیں جو اولاد دے سکے۔ جب ایسا شخص ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے کہیں گے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں خدا خالق ہے اسے کہو اے خالق! مجھے بھی اولاد دے ! یہ صرف باتیں ہی نہیں بلکہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ یہیں ایک ہندو ہے اس کی شادی کو کئی سال ہو گئے تھے مگر اولاد نہ ہوتی تھی اس نے دعا کی کہ اسے خدا ! اگر مرزا صاحب بیچتے ہیں تو ان کے طفیل مجھے اولاد دے ہیں سال تک اس کے اولاد نہ ہوئی تھی اس کے بعد اس کے اولاد ہو گئی ۔ اسی طرح قریب ہی کے گاؤں کا ایک اور ہندو ہے جو ایک دفعہ جلسہ کے ایام میں بٹالہ سے قادیان آنے والی سڑک پر بیٹھ گیا تھا اور سب جلسہ پر آنے والوں کو رس بھی پلاتا تھا اور یہ بھی بتاتا تھا کہ مرزا صاحب کے صدقے مجھے خدا نے یہ بچہ دیا ہے ۔ غرض خدا تعالیٰ چونکہ خالق ہے اس لئے جب دنیا کے ڈاکٹر کسی بات سے جواب دے دیتے ہیں تو اس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ گھرانے کی ضرورت نہیں اگر خدا ہی کی منشاء نہیں تو اور بات ہے ورنہ اس سے حاصل کرنے کا رستہ کھلا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی دشمن ہے جو دین کے لئے مضر ہو اور اس کی موت دین کے لئے مفید ہو سکتی ہو یا طاعون یا اور بیماریوں کے کیڑے ہیں جو ہمارے لئے مضر ہوتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ مرجائیں تو ہم خدا تعالیٰ کی صفت حمیت سے کہیں گے کہ انہیں مار ڈال ۔ یا کبھی کوئی چیز کا مردہ ہو اور ہمیں اس کی حیات مطلوب ہو تو ہم اس کے لئے خدا تعالیٰ سے اس طرح دُعا کریں گے کہ اسے میٹھی اسے زندہ کر دے اور ہمارا تجربہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے موقعوں پر دعائیں سنتا ہے اور بظاہر مردہ وجودوں کو زندہ کر دیتا ہے جیسے عبدالرحیم خان صاحب کی مثال موجود ہے کہ جب ڈاکٹروں نے جواب دیدیا تو حضرت صاحب نے دعا کی اور تندرست ہو گئے۔ پھر انسان سے گناہ ہو جاتے ہیں اور لوگ تو گھبرائیں گے کہ کس طرح ان کا اثر دور کریں لیکن ہم کہیں گے خدا غفار ہے اسے کہو وہ بخش دے گا۔ غرض ہر چیز کا خزانہ خدا تعالیٰ کے پاس موجود ہے کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کا خزانہ خدا کی صفات میں نہ مل سکتا ہو۔ پس خدا کی صفات کے علم کے ذریعہ سے انسان اپنی تمام ضروریات کو پوری کر سکتا ہے اور گویا صفات الہیہ ایسی نالیاں ہیں جو ہماری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جاری ہیں اور ہمارا کام یہ ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ جس نالی سے ملے اس کے نیچے پایہ سے جا کر رکھ دیں یعنی جس بات کی ضرورت ہو اس کے مطابق جو خدا تعالیٰ کی صفت ہے اس کو پکاریں ۔