انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 432

انوار العلوم جلد 4 ۴۳۲ بستی باری تعالی بچ جائیگا۔ کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ یہ باتیں کچھ اثر نہیں رکھتیں اور بیہودہ ہیں اس طرح وہ سارے شکوک اور شبہات سے پاک ہو جائے گا۔ خداور خدا کو رب العالمین ماننے کا اثر اسی طرح خدا کی رب العالمین صفت ہے اس کے ماتحت ایک مومن اسی دنیا کو سب کچھ نہیں مجھے سکتا بلکہ یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ یہ دنیا خدا کے ان گنت عالموں میں سے ایک عالم ہے اس کے سوا اور بھی عالم ہیں اور اس بناء پر مثلاً وہ یقین رکھے گا کہ علم ہیئت کی ترقی کبھی ختم نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ علوم کی ترقی مومن کے اس عقیدہ کی تصدیق کر رہی ہے ۔ لڑائی سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ دنیا تین ہزار سال کی روشنی کے برابر لی ہے یعنی اس قدر بھی ہے جتنا عرصہ روشنی کی شعاع تین ہزار سال میں طے کر سکتی ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ روشنی کے بارہ ہزار سال سے بھی زیادہ دنیا کا طول ہے اور ابھی کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تحقیق بھی غلط ثابت ہو کر اس سے بہت زیادہ لمبائی دنیا کی معلوم ہوگی۔ یہ امر بتانے کے بعد کہ صفات الہیہ کے علم سے انسان کو ذہنی طور پر کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے اب میں بتاتا ہوں کہ صفات الہیہ سے انسان عملی طور پر کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے ؟ انسان دنیا میں خدا سے کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے ؟ انسان چاہتا ہے کہ اسے عزت حاصل ہو اور ادھر دیکھتا ہے کہ خدا کا ایک نام مُعز ہے ۔ اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ ادھر ادھر جانے کی کیا ضرورت ہے اس کو کیوں نہ کہوں کہ اسے معتر! مجھے عزت دے ۔ پھر انسان کو رزق کی ضرورت ہوتی ہے اور خدا رازق ہے جو اس کی اس صفت سے واقف ہے وہ بجائے ادھر ادھر دھکے کھانے کے اسی کے حضور میں کہے گا کہ اسے رزاق امجھے رزق دے ۔ یا پھر کبھی ہم مصائب اور مشکلات میں مبتلاء ہوتے ہیں۔ خدا کی صفت کا شِفَ السُّوء بھی ہے یعنی بدی کو مٹا دینے والا اس لئے ہم اسی سے کہیں گے کہ اسے تکالیف کو دور کرنے والے اور مصائب کو مٹانے والے خدا ہمیں تکالیف سے بچائے تو گویا ہماری مثال ایسی ہو گی کہ ہم ایک ایسے درخت کے نیچے بیٹھے ہیں جسے خوب پھل لگے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ میں ایک لبا بانس ہے جب جی چاہتا ہے بانس کے ذریعہ پھل اتار لیتے ہیں۔ مثلاً کسی کو کوئی بیماری اور دکھ ہو تو وہ شانی خدا کے سامنے اپنی درخواست کو پیش کرے گا اور کے گا کہ تو جو شفاء دینے والا ہے مجھے شفاء عطا فرما۔