انوارالعلوم (جلد 6) — Page 413
انوار العلوم جلد 4 ۴۱۳ هستی باری تعالی چوری ظاہر ہو جائے گی ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی غفاری کی صفت ہے اگر انسان بدی کے ساتھ نیکی کرتا رہے یا بد پر ہیزی کے ساتھ علاج کرتا رہے تو اس صفت کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور ایک تک بد نتائج سے انسان بچتا رہتا ہے۔ حد دوسرا ظہور ان صفات کا شرعی ذرائع سے ہوتا ہے ۔ جیسے مثلاً دعا سے ۔ دعا طبعی قانون کا جزء نہیں بلکہ شرعی قانون کا جزء ہے اور اس کے ذریعہ سے بھی خدا تعالیٰ کی وہ صفات جو خاص یں اوقات میں ظاہر ہوتی ہیں جلوہ گری کرتی ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ اس ذریعہ سے جس قدر صفات ریعہ سے وہ الہیہ کو متحرک کیا جا سکتا ہے اس قدر قانون طبعی کے ذریعہ سے بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ غرض خدا تعالیٰ کی صفات مختلف دائروں میں عمل کر رہی ہیں اگر ان کو مد نظر نہ رکھا جائے تو صفات الہیہ کے ظہور کا مسئلہ مشتبہ ہو جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے متعلق ان معلومات کے حاصل ہونے کیا خدا سے تعلق ہو سکتا ہے ؟ کے بعد جو اوپر بیان کی گئی ہیں طبعاً انسان کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے خدا سے میرا بھی کوئی تعلق پیدا ہو سکتا ہے ؟ اسلام کہتا ہے کہ ہاں ہو سکتا ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ تَخَلَقُوا بِاخْلَاقِ اللہ خدا کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں إِنَّ اللهَ وَتُرُ يُحِبُ الوثر * خدا و تر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ پھر فرمایا ان الله ۔۔ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ که خدا خوب صور ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کا خدا سے تعلق پیدا کرنا جائز رکھا گیا ہے اور طریق یہ بتایا ہے کہ انسان خدا کی صفات کو اپنے اندر لے اور اپنے اوپر منعکس کرے اسی طرح سے اسی طرح ایک اور حدیث ہے جس سے تعلق پیدا کرنے کا پتہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے وہ جنت میں جائے گا حفظ کے معنے محفوظ کرنے کے ہیں اور ضائع نہ کرنے کے ۔ اس لئے حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان خدا کی صفت غفاری کا لفظ سنے تو اُسے ضائع نہ ہونے دے بلکہ اپنے اندر اس کے مفہوم * ترندی ابواب الوتر باب ما جاء ان الوتر كنين بحشم ۔ مسند احمد بن قیل جلد هم صفحه ۱۵۱ مه بخاری کتاب التوحيد باب إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ اسْمِ إِلَّا وَاحِدَةً