انوارالعلوم (جلد 6) — Page 412
انوار العلوم جلد 4 ۴۱۲ ہستی باری تعالی ۔ رہا ہے خدا تعالیٰ نے قانون رکھا ہے کہ انسان کے دماغ کا حال دوسرے کو معلوم نہ ہو۔ انسانی دماغ میں بیسیوں گندے خیال گزرتے ہیں اگر یہ صفت نہ ہوتی تو لوگ آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے ۔ کوئی کسی کو ملنے کے لئے جاتا مصافحہ کرتا اور اسے مارنے لگ جاتا کہ تمہارے دل میں میرے متعلق فلاں برا خیال آیا تھا ۔ اسی طرح میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے متعلق کبھی کوئی برا خیال آتا تو وہ ایک دوسرے کو معلوم ہو جاتا اور ان کی محبت میں فرق آجاتا ۔ تو خدا تعالیٰ کی ستاری کی صفت بھی ہر وقت اپنا عمل کر رہی ہے ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی غفاری کی صفت ہے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں برابر گناہ ہو رہے ہیں کہیں جسمانی اور کہیں شرعی جس طرح کھانے میں کبھی بے احتیاطی ہو جاتی ہے اسی طرح انسانی جسم کے ذرات بھی غلطیاں کر جاتے ہیں بیماریوں کے کیڑے جسم میں داخل ہوتے رہتے ہیں مگر ان بے اعتدالیوں میں سے اکثر کے اثر کو خدا تعالیٰ کی صفت رحمت آپ ہی آپ مٹاتی رہتی ہے صحت پیدا کرنے والے اجزاء فوراً بیماری کے اثرات کو مٹا دیتے ہیں بیماری کے کیڑوں کے مقابلہ میں ان کو ہلاک کرنے والے کیڑے یا زہر پیدا کر دیئے جاتے ہیں ۔ معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ خدا نے انسان پر کیا رحم کیا مگر طب سے پتہ لگتا ہے کہ نانو سے فیصدی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی انسان کے اندر ہی اندر اصلاح ہو جاتی ہے تو ایک تو صفات الہیہ کا ظہور ہر آن میں ہو رہا ہے اور وہ کسی وقت معطل نہیں ہو تیں مثلاً خدا تعالی سمیع ہے اگر کوئی منہ سے دُعا نہیں کرتا تو اس کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ سے مدد کی التجاء کر رہا ہوتا ہے پھر وہ مجیب ہے وہ ہر ایک عضو کی پکار کو سنتا ہے ۔ دوسرا حصہ صفات کا یعنی جو بلانے سے ظاہر ہوتا ہے دو قسم کا ہے ایک وہ جس کی مدد قانون قدرت کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے دوسرا وہ جس کی مدد قانون قدرت نہیں بلکہ قانون شریعت کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ قانون قدرت کے ذریعہ سے جن صفات کی کے ذریعہ سے مدد حاصل کی جاتی ہے ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی کھانا پکاتا ہے تو ضرور اس کا کھانا پک جائیگا۔ جاتی ہے ان کی مثال یہ ہے کہ جسے کوئی کھانا پکاتا اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت تو ظاہر ہو گئی لیکن اس کا ظہور انسانی فعل کے نتیجہ میں ہو گا یا مثلاً ستاری کی صفت کو لے لو اس صفت کے ظہور کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک قانون بنا رکھا ہے اگر اس کے ماتحت کوئی شخص چوری بھی کرے گا تو بچ جائے گا۔مثلاً اندھیرے میں چوری کرے اس امر کی احتیاط کرے کہ کوئی دیکھتا نہ ہو لیکن اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی امر