انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 411

انوار العلوم جلد 4 ۴۱۱ بستی باری تعالیٰ کی صفات کا دائرہ مقرر ہے اور وہ اپنے اپنے دائرہ میں کام کرتی ہیں اور ان میں رحْمَنِی وَسِعَتْ سکل سنٹی کا نظارہ نظر آتا ہے۔ مثلاً ایک کافر ہے جو اچھا بھلا ہے اس کے گناہوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ اسے پاگل کر دو اور اسے پاگل کر دیا جاتا ہے اگر ہمارا اتنا اختیار ہو تو ایسے شخص کا گلا ہی گھونٹ دیں اور اسے مار دیں۔ مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت شدید العقاب کہہ رہی ہوتی ہے کہ اسے پاگل کر دو مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت رزاقی کہہ ر ہی ہوتی ہے کہ یہ ہمارا بندہ ہے اس کو رزق دو۔ اسی طرح خدا تعالٰی کی اور صفات بھی جاری ہوتی ہیں۔ خدا کی صفات کے متعلق ایک اور قانون دوسرے خدا تعالیٰ کی صفات کے ظہور کے لئے یہ بھی قانون ہے کہ وہ اس قانون کی یہ بھی ہے کہ وہ تائید کرتی ہیں ہیں و جو قانونِ قدرت کہلاتا ہے ہے اس قانون کے ماتحت انسان انسان کے کے اعمال اعمال یاد یا دنیا کے تغیرات جو رنگ اختیار کر لیتے ہیں اس کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ کا ایک ماہر ہوتی رہتی ہیں۔ گویا اس طرح وہ انسانی اعمال یا طبعی تغیرات کی مددگار ہو جاتی ہیں جیسا جیسا عمل ہو اس کے مطابق نتیجہ نکلتا چلا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس قاعدے کے متعلق فرمایا ہے کہ گلا نمد تیجہ یکتا چلاجاتا ہے۔ کریم میں اس کے متعلق فرمایا ہے کہ کالا هؤُلَاءِ وَ هُو لاءِ دبنی اسرائیل : (۲) ہر شخص جس قسم کی کوشش کرتا ہے اس کے مطابق ہم قطع نظر اس کے کہ وہ مومن ہے کہ کافر نتائج نکالتے رہتے ہیں۔ خدا کی صفات کے دو چکر تیسرا قاعدہ ظہور صفات مات کے متعلق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفا دو دائروں میں کام کرتی ہیں جس طرح زمین کی دو حرکتیں ہیں ایک اپنے اردگرد اور ایک سورج کے گرد اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات کا ایک توالیسا اثر ہے جو ہر وقت ہوتا رہتا ہے سوائے اس کے کہ احدیت کے مقابلہ میں آئے اگر اس کے مقابلہ میں آئے تو فوراً بند ہو جاتا ہے ۔ دوسرا چکر ان کا یہ ہے کہ انسان اپنے عمل سے جب ان کے اثر کو کھینچے تو ان کا اثر ظاہر ہوتا ہے ورنہ نہیں ۔ آگے ان صفات کا کھینچنا دو طرح ہوتا ہے ۔ ایک قانونِ قدرت کی مدد سے اور دوسرے بذریعہ دعا۔ مثال پہلی بات کی یعنی صفات اللہ کے بر وقت ظاہر ہونے کی یہ ہے کہ رزق خدا تعالیٰ ایک رنگ میں ہر وقت دے رہا ہے انسان کے جسم کے ہر ایک ذرے کو اگر خون نہ ملے تو انسان مر جائے اسی طرح ہوا انسان کے اندر جا رہی ہے جس سے خون صاف ہوتا ہے ہر وقت خدا تعالیٰ کی صفات یہ ضرورت پوری کر رہی ہیں خواہ انسان سوتا ہو یا جاگتا ہوش میں ہو یا بے ہوشی میں۔ اسی طرح ستر ہے ہر وقت ستر ہو