انوارالعلوم (جلد 6) — Page 396
انوار العلوم جلد 4 ۳۹۶ ہستی باری تعالی مجبور ہو۔ ثانی الذکر صورت کے اختیار کرنے سے انسان کی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی ہے اور اول الذکر صورت اختیار کرنے کو خود انسان ہی پسند نہ کرے گا۔ پس وہی طریق سب سے مناسب ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ۔ ہر کام میں تکلیف ہوتی ہے اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کویہ بھی سوچنا چاہئے کہ تکلیف تو دنیا کے سارے پیشوں میں ہی ہوتی ہے۔ زمیندار ایک کھیت تیار کرتا ہے تو کیا یونی کر لیتا ہے ؟ ہل چلاتے وقت بیسیوں چکر کاٹتا ہے، سردی گرمی کی تکلیف برداشت کرتا ہے، اس کے بیوی بچے الگ محنت میں شریک ہو کر تکلیف اُٹھاتے ہیں ۔ پس یہی نہیں کہ بیماری سے ہی انسان کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ کھانے پینے ۔ کہ کا انتظام کرتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے اس لئے اگر لئے اگر تکلیفوں کو دور کرنے سے ہی خدا تعالیٰ کی صفات رحمت کا پتہ چل سکتا ہے تو یہ بھی سوال ہونا چاہئے کہ سب پیشے موقوف کئے جائیں سب محنتیں اڑا دی جائیں ۔ اب علم حاصل کرنے کے لئے برسوں محنت کرنی اور تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، ہونا یہ چاہئے کہ ادھر بچہ پیدا ہوا ادھر سارے علوم کے خزانے اس پر کھل جائیں ۔ اب زمیندار کو فصل تیار کرنے میں تکلیف ہوتی ہے مگر چاہئے یہ کہ آپ ہی غلہ آگئے آپ ہی گھر میں آجائے، آپ ہی آپ روٹی پکے ۔ اسی طرح کپڑوں کی تیاری میں تکلیف ہوتی ہے چاہئے یہ کہ آپ ہی کپڑا تیار ہو، آپ ہی آپ لباس سیلئے جائیں ۔ غرض کہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ آپ ہی آپ کو ہو جائے ۔ تمام کاروبار بند ہو جائیں اور سب پیشے موقوف ہوں نہ تو ہار رہے نہ ترکھان ، نہ دھوبی رہے نہ درزی، نہ ڈاک والے رہیں نہ ریل والے کوئی بھی نہ رہے۔ گویا جس طرح پرانے زمانہ میں ایدی خانے ہوتے تھے (جن کا نام برعکس تھا کیونکہ ان میں ایسے لوگ رکھے جاتے جو بے ہاتھ ہوتے) ساری دنیا ہی ایدی خانہ بن جائے ۔ سب لوگ چار پائیوں پر پڑے ہوئے ہوں، نہ چلنے کی تکلیف نہ اٹھنے کی ضرورت نہ کوئی ہاتھ ہلائے نہ پاؤں، سب کام آپ ہی آپ ہوں، سب ترقیاں بند ہو جائیں، سب مقابلے روک دیئے جائیں یہ دنیا ہے جو تکلیفوں کے سلسلے کے بند ہونے کے خواہشمند پیدا کرنی چاہتے ہیں۔ اب میں ایک اور پہلو کو لیتا ہوں اور وہ یہ کہ مرنے سے جو تکلیف ہوتی اگر موت نہ ہوتی اپنے اسے ہے سے اڑا کر دیکھو کیا صورت بنتی ہے۔ اگر نئی نسلیں تو پیدا ہوتی رہیں لیکن کسی پر موت نہ آئے تو ایک ہزار سال کے عرصہ میں ہی دنیا پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہے