انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 397

انوار العلوم جلد 4 ۳۹۷ هستی باری تعالی اور نہ غذاری کافی ملے اور یہی لوگ جو ان امور کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کے رحم پر اعتراض کرتے ہیں خداتعالیٰ کو برا بھلا کہنے لگ جائیں کہ ہمارے باپ دادوں کو دفع بھی نہیں کرتا کہ کہیں گھر خالی ہوں اور ہم اپنے سر چھپائیں اور روٹی پیٹ بھر کر کھانے کو ملے ۔ پھر میں کہتا ہوں اگر دنیا کی موجودہ حالت فی الواقع تکلیف دہ ہے تو خودکشی کا دروازہ کھلا ہے کیوں ایسے معترض یا دوسرے لوگ خود کشی نہیں کر لیتے ؟ مگر کسی قدر لوگ ہیں جو اس فعل ہیں جو ا پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور جو اس فعل کے مرتکب ہوتے بھی ہیں تو انہیں دنیا کیا کہتی ہے ؟ کہیں نہ ہے نہ کہ وہ عارضی ط عارضی طور پر پاگل ہو گئے تھے اگر فی الواقع یہ دنیا تکلیف ہی کی جگہ ہے تو خود کشی کرنے والے پاگل نہیں بلکہ سب سے زیادہ عقلمند نہیں جو ایک منٹ میں اپنی تکلیفوں کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ پس خود کشی نہ کرنے اور خود کشی کرنے والوں کو پاگل سمجھنے سے معلوم ہوا کہ با وجود ان شبہات کے یہ معترض بھی یہی چاہتے ہیں کہ اور جیٹیں مگر جب دل کی یہ حالت ہے تو پھر اعتراض کیوں کرتے بھی ہیں ؟ غرض یہ سب باتیں انسان کے لئے ضروری ہیں اور ان پر اعتراض کرنا لغویت ہے یہ نہ تو اس لئے ہیں کہ خدا کی طاقت محدود ہے اور نہ تناسخ ان کا موجب ہے بلکہ ان سب میں خدا تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں ۔ پرا صائب پر افسوس کیوں کیا جاتا ہے ؟ پہلے بیان پر معرفین ای اور اعتراض کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر یہ درست ہے کہ یہ حب یہ حبیب امور حکمت پر مبنی ہیں اور ان کے بغیر دنیا کا گزارہ نہیں ہو سکتا تھا تو پھر جب کسی گھر میں ماتم ہو جاتا ہو ہے تو گھر والے خوشی کیوں نہیں مناتے اور تکلیف کیوں محسوس کرتے ہیں ؟ اسی طرح جب کوئی بیمار ہو جائے تو خوش کیوں نہیں ہوتے رنج کیوں کرتے ہیں ؟ ہم تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ بیماری سے تکلیف نہیں ہوتی بلکہ ہم تو یہ کتے ہیں کہ ہم کہ اگر بیماری کے اسباب کو مٹا دیا جاتا تو پھر جو کچھ ہوتا وہ تکلیف دہ ہوتا ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ جو شخص بیمار ہوتا ہے اسے آرام ملتا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا قانون بنایا جاتا جس سے بیماری دور ہو جاتی تو وہ یا تو انسان کو محض مجبور بنا دیتا اور یہ نہیں ہو سکتا تھا اور یا پھر اس کی حسوں کو باطل کر دیتا جو بیماری کی نسبت ہزار ہا درجے زیادہ نا قابل برداشت ہوتا ۔ پس ان ترقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو موجودہ قانون کی وجہ سے انسان کے سامنے ہیں بیماریاں تکلیف وغیرہ سب ایک رحمت ہیں یا