انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 395

انوار العلوم جلد 4 ۳۹۵ ہستی باری تعالی کے لئے برابر ہوں وہ انسان جو بیماری کا شکار ہوتا ہے اس سے پوچھ کر دیکھیں تو کیا وہ موجودہ حالت کو پسند کرتا ہے یا اس قسم کی حالت کو جو د ہر یہ تجویز کرتے ہیں۔ پھر بیماری کا باعث جسم کی وہ میں ہے جس سے وہ سختی اور نرمی کو محسوس کرتا ہے یا انسان کے جسم کی نرمی ہے جس سے وہ اپنی ذات میں آرام محسوس کرتا ہے اس نرم جسم پر اگر زور سے چوٹ لگے تو وہ زخمی بھی ہو گا ۔ بیماری کے اسباب کے مٹانے کے ایک یہ معنی بھی ہوں گے کہ ان جستوں کو مٹا دیا جائے مگر ان کو مٹا کر دیکھو کیا نتیجہ نکلے گا۔ اپنے عزیزوں کو ہاتھ لگائے گا اور ان کے جسم کو پھر کی طرح سخت پائے گا بلکہ اپنے حجم می میں ہوگی اور کچھ محسوس ہی نہیں کرے گا جس ہوئی اور محسوس طرح فالج زدہ کے جسم کو کوئی چیز چھوتی ہے اور وہ کچھ محسوس نہیں کرتا کیا کوئی شخص بھی اس حالت و پسند سے اور سی کو پسند کرے گا؟ دنیا کے بہت سے لطف اور بہت سی دلبستگیاں چھونے کی جس سے ہیں اور اپنے جسم کی نرمی میں ہیں ۔ اب اگر بیماری کو دور کرنے کے لئے اس جس کو اور اس نرمی کو دور کر دیا جائے تو بیشک درد اور زخم تو مٹ جائے گا مگر انسان کا کیا باقی رہے گا ؟ وہ ایک پتھر ہوگا جو نہ اپنے جسم کے آرام کو محسوس کر سکے گا نہ دوسروں سے چھونے کا کوئی لطف اسے حاصل ہو سکے گا بلکہ ایسے شخص کو کوئی اُٹھا کر بھی لے جائے تو اسے کچھ معلوم نہ ہو گا۔ اس نقشہ کو کھینچ کر اپنے دل میں دیکھ لو کہ سردی گرمی کا احساس مٹ جائے، گرمی سردی کا موسم یکساں ہو جائے ، ٹھنڈے پانی اور گرم پانی کا احساس باقی نہ رہے، میٹھا، کڑوا ، سلونا کوئی مزا محسوس نہ ہو، سختی نرمی کا کچھ پتہ نہ لگے ، جسم لوہے کی طرح سخت ہو ، خوشبو اور بدبو کا امتیاز باقی نہ رہے اور اس کے نتیجہ میں بیماری بھی پیدا نہ ہو تو کیا اس زندگی کو دنیا خود بیماری اور کے کے گی یا نعمت سمجھے گی ؟ کسی عقلمند انسان کے سامنے اس تجویز کو پیش کر کے دیکھو وہ اسے جنون قرار دے گا۔ خواہ لاکھ اسے سمجھاؤ کہ اس طرح بیماری کا دروازہ بند ہو جائے گا وہ کبھی تسلیم نہ کرے گا اور یہی کہے گا کہ بیماری تو کبھی کبھی اور کسی کسی کو آتی ہے مگر تمہاری تجویز سے تو ہر کہ شخص کے لئے زندگی کا ہی دروازہ بند ہو جائے گا یہی حسیں تو روزانہ میرے کام آتی ہیں اور کام میری زندگی کے دلچسپ بنانے کا موجب ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے زندگی کو دلچسپ بنانے کے لئے انسان کو بیچتیں دی ہیں۔ ان کے استعمال میں جب انسان غلطی کر بیٹھتا ہے تو بیمار ہو جاتا ہے اور بیماری اسی طرح اڑائی جا سکتی ہے کہ یا یہ حسیں اڑا دی جائیں یا پھر انسان کا اپنا ارادہ ہی باقی نہ رہے وہ اپنے ہر کام میں