انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 374

انوار العلوم جلد 4 بیان ہوئی ہیں ۔ هستی باری تعالی اس جگہ ایک اور بات بھی میں بیان کرنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خداتعات وحدت وجود کی صفت احدیت اور خالقیت یعنی خدا کا ایک ہونا اور کوئی شریک نہ ہونا اور خالق ہونا ان امور کو مد نظر رکھ کر بعض لوگوں نے بعض شبہات پیدا کئے ہیں ۔ وہ خیال کرتے ہیں اور افسوس کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض اس خیال میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ خدا کا ایک ہونا اس کی صفات کے لحاظ سے یا الوہیت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ ہر طریق سے ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ دنیائیں خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں ان کے اس خیال کو فلسفہ کے اس مسئلہ سے بھی تقویت مل گئی ہے کہ مادہ مادہ سے ہی پیدا ہو سکتا ہے جو چیز نہ ہو وہ وجود میں نہیں آسکتی چونکہ وحدت وجود کا خیال ہمارے ملک میں عام ہے خصوصاً فقراء اکثر اس مرض میں مبتلاء ہیں اس لئے اس خیال کی بے ہودگی کو خوب سمجھ لینا چاہئے جہاں بھی فقیر ہمارے ملک میں پائے جائیں وہاں ان کا فقرہ اللہ ہی اللہ ہے اور سب کچھ اللہ ہی ہے بھی سنائی دے گا ۔ وہ کہتے ہیں جب خدا ایک ہے تو اگر کوئی دوسرا وجود مانا جائے تو دو ہو گئے اور خدا کی یکتائی باقی ندر ہی مخلوق کی مثال وہ دریا سے دیتے ہیں جس پر حباب تیر رہے ہوں جس طرح وہ حباب الگ وجود نظر آتے ہیں مگر در حقیقت الگ وجود نہیں ہوتے اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ گو مختلف شکلیں نظر آتی ہیں مگر در حقیقت خدا کے سوا کچھ نہیں ہے جس طرح حباب پانی کی ہی ایک شکل ہے اسی طرح دنیا میں جو کچھ ہے یہ بھی خدا ہی کی ایک شکل ہے مگر اس قسم کی مثالیں بالکل باطل ہیں۔ مثلاً یہی حباب والی مثال لے اور حباب کیا ہے؟ پانی میں ہوا داخل ہو کر حباب بن گیا اسی طرح مخلوق کی مثال حباب کی سی ہے تو یہاں بھی خدا کے سوا تو کوئی اور وجود ماننا پڑے گا جو ہوا کی طرح خدا میں داخل ہو کر اس کی مختلف شکلیں بنا دیتا ہے۔ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ تِلْكَ الْخَرَافَاتِ بہر حال ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دراصل چیز ایک ہی ہے آگے اس کی شکلیں مختلف ہیں اس کے لئے انہوں نے مذہبی دلیلیں بھی بنا رکھی ہیں ۔ مثلاً وہ یہ کہتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ کے وجودوں معنے میں خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں لاکھوں وجہ کی عبادت کی جاتی ہے تو کیا کلمہ شریفہ میں یہ دعویٰ جھوٹا کیا گیا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں، پس کلمہ شریفہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا جن چیزوں کی پرستش کی جاتی ہے وہ بھی خدا کا ہی جزو ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ جس کی بھی پرستش کرو آخر پرستش تو اللہ