انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 373

انوار العلوم جلد 4 ۳۷۳ بستی باری تعالیٰ ہیں جو ملائیکہ سے تعلق رکھتی ہیں یا ہم سے تعلق تو رکھتی ہیں لیکن بہشت میں اور اس دنیا کی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ان کو ہم یہاں سمجھ سکتے تھے ۔ نہان کو ہے خدا کی اور صفات ہونے کا ثبوت کوئی کے یہ تو خیال ہی ہے ہمیں کس طرح یقین ہو سکتا ہے کہ خدا کی اور صفات بھی ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ جس سے خدا کی ان صفات کا پتہ لگا جو ہمیں معلوم ہیں اسی سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خدا کی اور صفات بھی ہیں اور وہ ذات با برکات محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہے آپ کی ایک دُعا ہے اللهُم إلى ۔۔۔ اسْتَلْكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَئِكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أحَداً مِنْ خَلْقِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ (مسند احمد بن قبل جلد نمبر صفحه ۴۵۲ - ناشر دار الفکر بیروت ایڈیشن دوم شکله ) اے خدا میں تجھ سے دُعا مانگتا ہوں ان ناموں کے ذریعہ سے جو تو نے آپ اپنے لئے تجویز فرمائے ہیں، یا جو نام کہ تو نے اپنے کلام میں نازل فرماتے ہیں، یا جو تو نے اپنی کسی مخلوق کو سکھائے ہیں، یا جو تو نے اپنی ذات میں ہی مخفی رکھے اور کسی کو ان کا علم نہیں دیا ۔ کتنی لمبی صفات چلی گئیں اور کتنی زبردست دعا ہے اور یہ اسی کے ذہن میں آسکتی ہے چلی اور دعا اور جسے معرفت کامل حاصل ہو۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے ان ناموں سے بھی جو معلوم نہیں ان سے فائدہ اُٹھا لیا ہے اور ان کا واسطہ دیکر خدا تعالی سے دعا مانگی ہے۔ اس حدیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نام یعنی صفات اور بھی ہیں جو ہم کو معلوم نہیں اور ہم کو کیا نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کوبھی معلوم نہ تھے اور نہ کسی اور مخلوق کو معلوم ہیں ہیں جو خدا کی صفات معلوم ہیں یہ صرف وہ ہیں جو ہمارے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ۔ ان سے زیادہ ہمارے ساتھ اس دنیا میں تعلق رکھنے والی صفات نہیں ورنہ اگر ایک بھی ایسی صفت ہاتی ہے جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ہمیں معلوم نہیں تو خاتم النبیین ابھی آنے والا ہے۔ مگر خاتم النبیین چونکہ آ گیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی وہ تمام صفات جو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہیں وہ سب اس نے بیان کردی ہیں ۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کی ننانوے صفات ہیں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر انہوں نے ایک حدیث سے دھوکا کھایا ہے جس کا مطلب اور ہے۔ در حقیقت اس دنیا میں تعلق رکھنے والی صفات بھی بہت سی ہیں جن میں سے بعض ظاہر الفاظ میں اور بعض اشارات میں کلام الہی میں