انوارالعلوم (جلد 6) — Page 372
انوار العلوم جلد 4 ۳۷۲ بستی باری تعالیٰ ظاہر کرتا ہے۔ اس سے زیادہ مشابہت خدا تعالیٰ اور بندوں کی صفات میں نہیں ہوتی اور اس سے ہر گز یہ مراد نہیں ہوتی کہ جن آلات سے بندہ کام لیتا ہے خدا بھی لیتا ہے یا یہ کہ جو کیفیات بندے کے اندر پائی جاتی ہیں وہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً غضب میں انسان کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ اس کے خون میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ دل اور دماغ کی طرف چڑھتا ہے مگر خدا کے متعلق جب یہ آتا ہے کہ جب اس نے مثلاً یہود پر غضب کیا تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ خدا کا بھی حسم ہے اور اس کے جسم میں خون جوش میں آگیا ہے بلکہ اس صفت کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس طرح غضب ہماری بہت سخت بہت سخت ناپسندیدگی پر دلالت کرتا ہے خدا تعالیٰ بھی بعض انسانی افعال کو نا پسند کرتا ہے اور ان کے مرتکبین سے بعض قسم کے تعلقات توڑ دیتا ہے ۔ یا مثلا محبت کا جذبہ ہے، اس جذبہ کے ساتھ بھی انسان کے خون میں جوش پیدا ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ تنافر نہیں بلکہ رغبت پیدا ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے جب یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے ہر گنز یہ معنی نہیں ہوتے بلکہ صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس طرح ہمیں جس سے محبت ہو اس سے ہم اچھا سلوک کرتے اور اسے دکھوں اور بدیوں سے بچاتے ہیں اور آرام پہنچاتے ہیں خدا تعالیٰ البض اشخاص کے اخلاص اور محبت کی وجہ سے ان سے اسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان صفات کے ماتحت جو کام ہم کرتے ہیں وہی خدا بھی کرتا ہے لیکن کیفیت میں اختلاف ہے گویا ظہور صفات میں تو اشتراک ہے لیکن وجود صفات میں اشتراک نہیں گویا با وجود نفطی مشارکت کے اللہ تعالیٰ اپنی ہر صفت کے لحاظ سے بھی لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی (پشوری : ۱۲) ہے اور لفظی مشابہت صرف بندوں کو سمجھانے کے لئے قبول کر لی گئی ہے ۔ صفات کے متعلق ایک یہ بھی سوال ہے کہ کیا وہ ہمیشہ ظاہر ہوتی رہتی ہیں یا کسی خاص زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات معطل نہیں ہوتیں مؤمنوں کو بشارت ار یہ کہ خدا ہو کہ یہ کھڑکی اب بھی کھلی ہے اور یہ دروازہ اب بھی بند نہیں ۔ سے صفات الہیہ کے متعلق یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا جسقدر خدا کی صفات غیر محدود ہیں امام قران کریم یا احادیث میں آچکے ہیں خداتعال کی صفات اسی قدر ہیں یا اور بھی ہیں ؟ اس کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات بھی اسی طرح غیر محدود ہیں جس طرح کہ اس کی ذات غیر محدود ہے اور ہمیں قرآن اور حدیث میں جو صفات اللہ بائی گئی ہیں وہ صفات ہیں کہ جو اس دنیا میں انسان سے تعلق رکھتی ہیں انکے علاوہ اور ایسی صفات ہو سکتی