انوارالعلوم (جلد 6) — Page 364
انوار العلوم جلد 4 ۳۹۴ ہستی باری تعالی وجود ہے جو سجدہ کا مستحق ہے اس کو ہمارے سامنے پیش کر و قرآن کریم نے اس طریق کو اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے مشرک کا نام کا ناطقہ اس طرح بند ہوگیا ہے کہ اب موحد کے سامنے اس کی زبان نہیں کھل سکتی۔ مثال کے طور پر میں مندرجہ ذیل آیات کو پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالی فرمانا ہے ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءُ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا انْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَنَ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ اكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ یوسف : ۱) یعنی تم لوگ سوائے چند ناموں کے جو تم نے اور تمہارے آباء نے آپ ہی رکھ لئے ہیں اور کسی کی عبادت نہیں کرتے خدا تعالی نے ان کے تعلق کوئی دلیل نہیں نازل کی اپنی طاقتیں دینے کا اختیار خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے نہ کہ تمہارے اختیار کی میں پھر ان کو کس نے طاقتیں دیدیں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے سب انبیاء تو یہی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں کہ اس کی پرستش کرو ۔ یہی سیدھا اور پی کا طریق ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہم یہ بحث نہیں کرتے کہ خدا کے سوا کوئی پرستش کے قابل ہے یا نہیں ہیں یہ بتا دو کہ کیا جن جن بتوں کی تم کو جا کرتے ہو ان میں خدا کی طاقت آگئی ہے اگر یہ ثابت کر دو کہ وہ بیٹے دینے کی طاقت رکھتے ہیں، انسانوں کے دُکھ دور کر سکتے ہیں تو ان کے معبود ماننے میں کیا عذر ہو سکتا ہے ؟ لیکن اگر ان میں کچھ بھی طاقت نہیں تو وہ معبود کیسے اور ان کی پرستش کیسی ؟ فرماتا ہے مشرکوں سے یہی پوچھو کہ جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو ان کے خدا ہونے کی دلیل پیش کرو جب خدائی کے اختیار خدا ہی دے سکتا ہے اور وہ فرماتا ہے کہ ان الْحُكْمُ الا لله - (یوسف : ۴۱ ) سب اختیار میرے ہی پاس ہیں تو ان کے پاس کچھ نہ ہوا مگر تم کہتے ہو کہ وہ یہ بات کرتے ہیں یہ کام کرتے ہیں اس لئے ثبوت دو کہ واقع میں ان میں بعض خدائی طاقتیں ہیں ؟ ایک اور جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ هَذَا خَلْقُ اللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِنْ دونه (نقلن : ۱۲) خدا کی مخلوق ظاہر ہی ہے اگر ان میں بھی کچھ طاقت ہے جن کو تم معبود بناتے ہو تو دکھاؤ انہوں نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ کہاں ہے ؟ شاید اس موقع پر کسی کے دل میں خیال گذرے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے سامنے کریم فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور یوسف علیہ السلام کو ان کے والد نے سجدہ کیا تھا اگر غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا نا جائز ہے تو پھر الیسا کیوں ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سجدہ کے معنی اطاعت کے