انوارالعلوم (جلد 6) — Page 365
انوار العلوم جلد 4 ۳۶۵ هستی باری تعالیٰ بھی ہیں فرشتوں سے کہا گیا تھا کہ آدم کی اطاعت کرو اور حضرت یوسف کے متعلق جو آیت ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ یوسف کی ترقی دیکھ کر اور ان کو سلامت پاکر ان کے والد نے شکریہ کے طور پر خدا کو سجدہ کیا نہ یہ کہ یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا ۔ شرک کی سخت ناپسندیدگی کی وجہ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ شرک کو اتنا نا پسند کیوں کیا گیا ہے ؟ کہ سارے قرآن میں اس پر نفرت کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اول یہ کہ خدا کا شریک بنانے سے اس کی غیرت بھڑکتی ہے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی شان کسی اور کو دی جائے اور غیرت بھی اعلیٰ صفات میں سے ہے اور اس کا پایا جانا خدا تعانی در کو دی اور غیرت صفات سے ہے اور اس کا پایا جانا کے کامل الصفات ہونے پر دلالت کرتا ہے نہ کہ نقص پر ۔ دوم بندوں پر رحم اور مہربانی بھی شرک سے روکنے کا باعث ہے اگر لوگ خدا کے سوا b اور معبودوں پر بھی یقین رکھیں گے تو اکثر کم ہمتی کی وجہ سے اتجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں ) کہہ دیں گے کہ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم نے چھوٹے خداؤں کو خوش کر لیا۔ اس سے آگے جا کر کیا کرنا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی عبادت سے جو روحانی ترقیات کے لئے ضروری ہے محروم ہو جائیں گے پیس لوگوں کو ہلاکت سے بچانے کے لئے شرک کے دُور کرنے کی طرف اللہ تعالیٰ دوسرے امور کی نسبت زیادہ توجہ فرماتا ہے۔ سوم یہ کہ جو امور معبود ان باطلہ میں تسلیم کئے جاتے ہیں اگر فی الواقع خدا کے سوا اور وجودوں میں پائے جائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان حجاب اور پردے پیدا کر چھوڑے ہیں حالانکہ بنی نوع انسان کو پیدا ہی قرب الہی کے حصول کے لئے کیا گیا ہے پس شرک کی وجہ سے چونکہ محبت الہی کم ہو جاتی ہے اور پیدائش کی غرض پوشیدہ ہو جاتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے گویا اللہ تعالیٰ اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان روک پیدا کرنی چاہتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس غلط عقیدہ کو مٹا کر انسان کے دل میں اپنی کامل محبت پیدا کرنی چاہتا ہے جو بلا توحید پر ایمان لانے کے ہو ہی نہیں سکتا ۔ چوتھے یہ کہ شرک سے جھوٹ، جہالت اور بزدلی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی نہیں چاہتا کہ اس کے بندے ان گناہوں میں مبتلاء ہوں اس لئے وہ اس ناپاکی کو دور فرماتا ہے۔ جھوٹ شرک میں یہ ہے کہ جو طاقتیں خدا نے کسی کو نہیں دیں ان کی نسبت کہا جاتا ہے کہ فلار ، فلاں شخص یا