انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 363

انوار العلوم جلد 4 dhm هستی باری تعالی دوسرے سے دعا کرانے کی اصل حکمت صحبت صالح کی طرف توجہ دلانا ہے ۔ اگر مردوں سے دُعا کرانے کا دروازہ کھلا ہو تو زندوں سے دعا کرانے کا رواج اور اس طرح محبت صالح سے فائدہ اٹھانے کا رواج بہت کم ہو جائے گا اور اس سے دنیا کی روحانی ترقی کو نقصان پہنچے گا میرے نزدیک زندہ سے دیا کرانے کا فائدہ خواہ وہ وفات یافتہ سے بہت ہی کم درجہ پر کیوں نہ ہو بہت زیادہ ہو گا ابشر طیکہ یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مردہ سے دعا کرانے کا اس موقع پر اسے کوئی فائدہ ہوا ہے ۔ مردہ سے دعا کرانے کا جو استثناء میں نے بیان کیا ہے اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے آپ کو بعض کشوف کے ذریعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح ناصری سے ملایا گیا اور ان سے دعا کی خواہش کرائی گئی جسے آپ نے اپنی بعض تحریروں میں سے اور نظموں میں بیان کیا ہے اور جاہل اور نادان خشک ملاؤں نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ کیا شرک بخشا نہیں جائے گا جبکہ میں نے اس امر پر خاص زور دیا ہے کہ شرک ایک نهایت باریک سوال ہے تو یہ مشبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ایسے باریک سوال پر اس قدر سخت گرفت کیوں رکھی ہے کہ وہ بخشا ہی نہیں جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ شرک با وجود تو بہ کے نہیں بخشا جائے گا۔ کوئی گناہ بھی ایسا نہیں کہ جو توبہ سے بخشا نہ جائے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ بعض گناہ ایسے ہیں جو بعض نیکیوں کے مقابلہ پر آکر انسان کی روحانی ترقیات میں روک نہیں بنتے پس باوجود ان کے انسان نجات پا جائے گا مگر شرک ان گناہوں میں سے نہیں ہے۔ اگر ایک انسان مشرک ہو تو خواہ دوسرے اعمال اس کے کس قدر بھی اچھے کیوں نہ ہوں اسے اپنی روحانی پاکیزگی کے لئے جد وجہد کرنی پڑے گی اور ایسے حالات میں سے گزرنا پڑیگا جن میں سے گزرے بغیر روح اگلے جہان میں اپنی امراض کو دور نہیں کر سکے گی اور پھر یہ بھی بات سے بغیر ہے کہ یہ حکم شرک جلی کے لئے ہے نہ کہ شرک خفی کے لئے ۔ شرک خفی کے متعلق اس کی نیت اور کوشش کو دیکھا جائے گا ۔ ۔ شرک کے خلاف قرآن کا طریق شرک کے خلاف لوگ چونکہ غلط بیٹوں میں پڑھاتے خلاف لوگ ہیں اس لئے ان کی بحثوں کا نتیجہ قطعی نہیں نکلتا مگر جیسا کہ میں مختصراً اوپر ذکر کر آیا ہوں اس مسئلہ کے متعلق بحث زیادہ تر تفصیلی کرنی چاہئے ۔ تر مثلاً بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں اس پر بحث کرے کہ وہ کونسا