انوارالعلوم (جلد 6) — Page 360
انوار العلوم جلد 4 ۳۶۰ ہستی باری تعالی بقیہ ہے وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ مردے قبروں پر واپس آتے ہیں اور جن لوگوں کی نسبت معلوم کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کی قبروں کا احترام کیا ہے ان کے کام کر دیتے ہیں اس لئے لوگ قبروں پر دیئے یا اور بعض چیزیں رکھ آتے تھے ان یاد گاروں کو تازہ رکھنا بھی چونکہ شرک کی مدد کرنا ہے اس لئے شرک میں ہی داخل ہے۔ درختوں پر رسیاں وغیرہ باندھنی یا قبروں پر پردے چڑہانے ٹونے کرنے یہ سب امور اس قسم کے شرک میں شامل ہیں اور سب اسلام کے نزدیک قطعی طور پر حرام ہیں ۔ میں نے جو یہ لکھا ہے کہ بلا ضرورت طبعی ایسے کام کرنے منع ہیں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مثلاً کہیں جا رہے تھے اندھیرا ہو گیا اور کسی مقبرہ میں ٹھر گئے ایسی صورت میں یہ نہیں کہ وہاں اندھیرے میں ہی بیٹھا رہے بلکہ اگر روشنی کا سامان کر سکتا ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ دیا جلا ہے ۔ شرک کی دسویں قسم سویں قسم شرک کی یہ ہے کہ خواہ عمل نہ ہومگر دل میں محبت ادب خوف اور اُمید کے جذبات خدا کی نسبت اور وں سے زیادہ رکھتا ہو یا خدا کے برابر رکھتا ہو۔ ان دس قسموں کے باہر کی قسم کا شرک میرے نزدیک نہیں بچتا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں سب اقسام شرک کی ان دس قسموں میں آجاتی ہیں ۔ مجھے ساری عمر اس بات کی جستجو اور تلاش رہی ہے کہ شرک کیا ہے ؟ لوگ کہتے ہیں ۔ یہ موٹی بات ہے ۔ مگر میں طالب علمی کے زمانہ میں اسے سمجھنا چاہتا تھا اور سمجھ نہیں سکتا تھا ۔ یہ جانتا تھا کہ یہ یہ ایسی ملتی کہ یہ بات شرک ہے اور یہ نہیں۔ لیکن ایسی تعریف نہیں ملتی تھی کہ جس کے اندر شرک کی سب اقسام آجائیں اور ایسی بات داخل نہ ہو جو شرک نہ ہو ۔ آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ شرک کی ایک تعریف کرنا ہی غلطی ہے جس طرح خدا تعالیٰ کے وجود کا تصور کبھی ذات کے لحاظ سے ہوتا ہے بھی ذات کے لحاظ سے ہوتا ہے کبھی ان صفات کے لحاظ سے جن میں مخلوق کو کسی قسم کی بھی قدرت نہیں دی گئی کبھی ان صفات کے لحاظ سے جن میں بظاہر بندے بھی شریک ہوتے ہیں اس لئے سب امور کو مد نظر رکھ کر شرک کی مختلف اقسام کی تعریف الگ الگ ہی کرنی چاہئے ۔ شرک کار و شرک کی تعریف بیان کرنے کے بعد میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ مشرکانہ خیال رح کیا جائے ؟ میں نے اس سوال پر بھی غور کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سوال بھی نہایت پیچیدہ ہے میرے نزدیک عوام الناس اس کے متعلق فلسفیانہ