انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 361

انوار العلوم جلد 4 ٣٦١ هستی باری تعالی اور بار یک بحثوں کو سمجھ نہیں سکتے اور چونکہ لوگ فلسفیانہ بحثوں میں ہی اکثر پڑ جاتے ہیں اس لئے عوام الناس کو چنداں فائدہ نہیں ہوتا ۔ شرک کے مقابلہ کا اصل طریقی فطرت انسانی سے اپیل ہے خدا تعالیٰ نے شرک کے خلاف انسان کی فطرت میں مادہ رکھا ہے اور اس کے پاس اپیل رائیگاں نہیں جاتی ایک مشرک آدمی سے بھی بجائے فلسفیانہ بحث کرنے کے اگر اس کی عقل اور ضمیر سے اپیل کرتے ہوئے اس کی توجہ کو اس طرف پھیرا جائے تو وہ بہت جلد حق کی طرف رجوع کرتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی طریق پر زیادہ زور دیا ہے بجائے اس پر بحث کرنے کے کہ خدا کا شریک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ لوگوں کو یہ توجہ دلائی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے دوسروں کو اس کے برابر قرار نہ دو اور پھر ان چیزوں کی کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن کو لوگ خدا کا شریک قرار دیتے تھے اور اس طرح لوگوں کی صحیح فطرت کو اکسایا ہے جس کا اثر یہ ہوا کہ ملک کا ملک شرک کو چھوڑ کر توحید کی طرف لوٹ آیا۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک قانون قدرت بنایا ہے اور جو طاقتیں کسی کو دینی تھیں وہ دے دی ہیں۔ ان سے الگ جو کام انسان کرنا چاہتا ہے اس کے کرنے کی طاقت خدا نے اپنے قبضہ میں رکھی ہے تاکہ اس کی طرف انسان کی توجہ ہوا اگر سب کچھ انسان خود کر لیں تو اس کی طرف کون توجہ کرے ۔ پس خدا تعالیٰ نے قانونِ قدرت بنا دیا اور پھر یہ فیصلہ کر دیا کہ اگر کوئی اس میں فرق کرنا چاہے تو وہ مجھ سے دُعا کرے اس کے بدلنے کی لاقت میں کسی اور کو نہیں دوں گا۔ پس صرف ایک ذریعہ دعا کا انسان کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے اور دُعا صرف خدا تعالیٰ سے کی جا سکتی ہے اور کسی سے نہیں۔ دوسرے سے دعا کرانا اگر کوئی ہے کہ پھر دوسرے سے دو ارکان بھی ناجائز ہونا چاہئے کیوں جائز ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی اجازت دینے میں ایک حکمت مخفی ہے۔ اگر یہ حکمت نہ ہوتی تو دوسرے سے دعا کرانا بھی شرک ہوتا اور وہ یہ ہے یہ سے دعا کرانا کہ اکثر انسان کمزور ہوتے ہیں وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے اور ان کے لئے کسی نمونے کی ضرورت ہوتی ہے اگر نمونہ نہ ہو تو ان کا خدا تک پہنچنا مشکل ہو جائے ۔ پس خدا تعالیٰ نے دُعا کی قبولیت کے مدارج مقرر کر دیتے ہیں تاکہ لوگ صحبت صالح کی جستجو کریں اور بد صحبت سے اجتناب کریں کیونکہ یہ قدرتی بات ہے کہ جب کوئی شخص دیکھے گا کہ ایک شخص کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے تو اس کی طرف توجہ کرے گا اور اس کی صحبت کو قبول کرے گا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اعمال میں