انوارالعلوم (جلد 6) — Page 336
انوار العلوم جلد 4 ٣٣٦ هستی باری تعالی سے بخار اتر جاتا ہے ؟ اگر نہیں تو صرف منہ سے یہ کہنے سے کہ خدا کو مانتا ہوں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ پھر ہم کہتے ہیں ہندوستان کے دہر لیے دیو سماجی ہیں۔ وہ یوں بھی کہتے ہیں اور ٹریکٹوں میں بھی لکھتے ہیں کہ ان کی سماج میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں انمیں جرم کم ہوتے ہیں ۔ اگر ان کے اس معمولی کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی ہم کہتے ہیں کہ اس تعریف کے دیو سماجی مستحق نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ دیو سماجی بنانے سے پہلے ایک فارم پر کراتے ہیں جس پر داخل ہونے والا اقرار کرتا ہے کہ فلاں فلاں عیب سے پر ہیز کرتا ہوں جس کے کے با یعنی ہیں کہ ان کی سماج میں اسی شخص کو داخل کیا جاتا ہے کہ جس میں بعض گناہ جو زیادہ نمایاں ہیں پہلے ہی سے نہ ہوں پس ان کے گروہ کی اس میں کیا خوبی ہوئی کیا دوسری جماعتوں میں خوبیوں والے آدمی نہیں پائے جاتے ۔ اگر وہ جماعتیں بھی اپنے معیوب آدمیوں کو باہر کال دیں تو کیا وہ دیو سماج سے ہزاروں گنے بڑھ کر پاک وصاف لوگ نہیں دکھا سکتیں۔ دیو سماجیوں کا دعوی ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی فوجی افسر دعویٰ کرے کہ دیکھو ہمارا فوجی انتظام کیسا اعلیٰ ہے کہ اس میں جو آتا ہے اس کی چھاتی چوڑی ہو جاتی ہے قد لمبا ہو جاتا ہے حالانکہ حق یہ ہے کہ فوج میں لیتے ہی ایسے شخص کو ہیں جو اچھے قد کا ہو اور اس کا سینہ چوڑا ہو اور یہ حالت فوج کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ان حالات کے آدمیوں کو لینے کی وجہ سے فوج کو یہ خوبی حاصل ہوتی ہے۔ یا مثلا کوئی ہسپتال میں جائے اور جا کر مریضوں کو دیکھے اور کہے یہ اچھا ہسپتال ہے جس میں کانے ، لنگڑے لولے بیمار پڑے ہیں۔ حالانکہ ہسپتال بنایا ہی ایسے لوگوں کے لئے جاتا ہے جو بیمار ہوں ۔ پس ہم کہتے ہیں یہ دیو سماج کی تعلیم کا اثر اور خوبی نہیں اگر اس میں عیب کر نیوالے کم ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس میں داخل وہی کیا جاتا ہے جس کے متعلق اطمینان کر لیا جاتا ہے کہ وہ عیب چھوڑ چکا ہے پس دیو سماج کوئی مذہب نہیں کہ جس کا کام کمزوروں کی اصلاح ہوتا ہے بلکہ ایک کلب ہے کہ جس کا کام ایک خاص قسم کے لوگوں کو جمع کرنا ہوتا ہے ۔ نبی کی مثال تو ڈاکٹر کی ہوتی ہے وہ بیماروں کی صلاح کرنے کے لئے آتا ہے اس کے ہسپتال میں مریضوں کا ہونا ضروری ہے جو آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ سے شفاء پاتے ہیں اور وہ سوائے اس صورت کے کہ بیمار اس سے علاج کرانے سے انکار کرے کسی کو دھتکار تا نہیں ۔ پھر یہ بھی غلط ہے کہ دیو سما جیوں میں عیب نہیں ہو تھے ۔ پیچھے جب ان میں جھگڑے پیدا ہوئے تو ایک دوسرے کے متعلق حتی کہ بانی دیو سماج کے متعلق بھی ایسی ایسی گندی باتیں لکھی گئیں کہ شریف آدمی ان کو پڑھ بھی نہیں سکتا۔ یہی حال یورپ کے دہریوں کا ہے۔ چنانچہ امریکہ کی ایک دہر یہ اخبار کی ایڈیٹر لکھتی ہے کہ میں اس وقت تک اٹھارہ آدمیوں سے بلانکاح تعلق پیدا کر چکی ہوں اور