انوارالعلوم (جلد 6) — Page 337
انوار العلوم جلد 1 ٣٣٧ هستی باری تعالی مجھے تو اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا حالانکہ یہ وہ فعل ہے کہ جسے دہر یہ بھی برا سمجھتے ہیں ۔ کیا خدا کے ماننے سے اعلیٰ اخلاق کا معیار گر جاتا ہے ؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خدا ہے ؟ کے ماننے سے اخلاق کا کی وجہ معیار گر جاتا ہے۔ کیونکہ خدا کے ماننے والا نیکی اس لئے کرتا ہے کہ خدا سے کچھ اُمید رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگرمیں نے نیکی کی توخدا مجھے انعام دے ا لیکن خدا نہ مانے والی یک ونیکی تجھ کر رہا ہے کہ کسی لالچ وجہ سے۔ اسی طرح خدا کو ماننے والا خدا کے ڈر کی وجہ سے برائی کو چھوڑتا ہے لیکن نہ ماننے والا برائی کو خدا کوماننے ڈرکی وجہ سے بائی سمجھ کر چھوڑتا ہے اور ایک کو یک مجھے کرنا اور برائی کو بائی سمجھ کر چھوڑنا بن بست لالچ سے نیکی کرنے اور ڈر سے بُرائی کو چھوڑنے کے بہت اعلیٰ ہے ۔ ہم کہتے ہیں نیکی کی حقیقی تعریف یہ ہے کہ وہ اس عمل یا خیال کا نام ہے جو ایک کامل اور بے عیب ذات سے مشابہت پیدا کرتا ہو اور بدی اس فعل یا خیال کا نام ہے جو اس کامل اور بے عیب ذات کی پسندیدگی یا فعل کے خلاف ہو۔ اس کامل نمونہ کی مشابہت یا مخالفت کو مد نظر رکھے بغیر نیکی کی کوئی تعریف ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر ایسا کامل نمونہ ہی موجودنہیں ہے تو پھر نیکی بدی کی مکمل تعریف بھی نامکن ہے۔ نیکی کیا جو جو لوگ خدا تعالیٰ کے ماننے والے نہیں یا جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کو معرض بحث کیا ہے ؟ میں لانے کے بغیر اخلاق کی بحث کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں وہ نیکی کی تعریف میں اختلاف رکھتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ نیکی وہ عمل ہے کہ جس سے سب سے زیادہ خوشی حاصل ہو اور جو انہی حالات میں اتنی خوشی نہ پیدا کرے وہ بدی ۔ دوسرے کہتے ہیں کہ خوشی کے کیا معنے ہیں ؟ ایک شخص ڈاکہ مارتا ہے وہ اسی پر خوش ہوتا ہے مگر ڈاکہ ڈالنا نیکی نہیں۔ اس لئے نیکی کی یہ تعریف درست نہیں اس کی اصل تعریف یہ ہے کہ جس بات سے سب سے زیادہ نفع پہنچے وہ نیکی ہے اور انہیں حالات میں جن امور میں کم نفع پہنچے یا نقصان پہنچے وہ بدی ہے ۔ مگر اس پر یہ سوال پڑتا ہے کہ کس کو نفع پہنچے ؟ اگر دوسروں کو تو جب کوئی مال ٹوٹنے لگے تو کیا اسے روکنا نہیں چاہئے ۔ بلکہ کہنا چاہئے کہ جس قدر لے جاسکتے ہو لے جاؤ کیونکہ مال سے اس کو فائدہ پہنچے گا اور یہ نیکی ہے ۔ اس پر کہتے ہیں نیکی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو زیادہ نفع پہنچے اور بدی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو نقصان پہنچے ۔ مگر اس تعریف سے تو وہی اعتراض منکرین خدا پر عائد ہو گیا جو وہ خدا کو