انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 335

انوار العلوم جلد 4 ۳۳۵ رستی باری تعالی ہو سکتا ہے کہ اس مقدمہ میں میں جیت جاؤں اور میں صرف اسی صورت میں اسے مان سکتا ہوں تو خدا تعالیٰ کس کے مطالبہ کو پورا کرے اگر ایک کے مطالبہ کو پورا کرے تو دوسرا نہ مانے گا یا مثلاً گذشتہ جنگ میں ہی جرمن کہتے کہ اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو ہم اسے مان لیں گے ۔ ادھر انگریز کتے کہ اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو ہم اسے مان لیں گے۔ اب فتح تو ایک فریق کو ہی ہو سکتی تھی۔ اس لئے دوسرا فریق انکار پر قائم رہتا ہپس اس طرح اگر خدا کا ثبوت طلب کرنا درست ہو تو کم سے کم آدھی دنیا کے لئے تو ہدایت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ چور کہتے کہ اگر ہمیں چوری میں کامیابی نہ ہوئی تو ہم سمجھیں گے کہ خدا کوئی نہیں ۔ ادھر ماں والے کہتے اگر ہماری چوری ہوئی تو ہم خدا کے وجود کے ہم ہرگز قائل نہ ہوں گے اگر کوئی خدا ہے تو اسے چاہیے کہ ہمارے اموال کی حفاظت کرے یہی حال دوسری باتوں میں ہوتا اور اس طرح قانون قدرت بالکل تباہ ہو جاتا ۔ اگر کہو کہ خدا کسی ایک کو ہی اس طرح ثبوت دے دیا ۔ تو باقی لوگ مان لیتے ہم کہتے ہیں۔ اگر یہ بات ہے تو کیا وجہ ہے کہ جو ثبوت خدا تعالیٰ نے دینے ہیں تم ان کے تعینی ہونے کے باوجود ان کو نہیں مانتے اگر تمہا راحتی ہے کہ جو تمہارے مطالبے کے سوا ثبوت دیئے جائیں انہیں رد کر دو تو کیوں کی حق دوسروں کو حاصل نہیں اور اگر سب کو یہی حق حاصل ہو تو نتیجہ وہی نکلے گا جو اوپر بیان ہو چکا ہے اور بجائے ایمان کی ترقی کے لیے دینی اور کفر ترقی کرے گا۔ خدا کو ماننے والوں کے اخلاق عرض خداتعالی کے نشانات کا مشاہدہ ہوسکتا ہے مگر اس کے منشاء کے ماتحت ہو سکتا ہے۔ یہ ہمارا حق نہیں کہ ہم ان نشانات کی تعیین کریں جن کے ذریعہ سے وہ اپنی چہرہ نمائی کرے ۔ ایک اور اعتراض بھی خدا تعالی کی ہستی پر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کو ماننے والے کہتے ہیں کہ خدا کے ماننے سے اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں مگر اس کے بر خلاف دیکھا یہ جاتا ہے کہ سب سے کو بھی اور ایشیا بھی نبی بدتر اخلاق خدا کو ماننے والوں کے ہوتے ہیں۔ یورپ کے دہریے بھی اور ایشیاء کے دہریے بھی ہیں اعتراض کرتے ہیں ۔ ہندوستان والے کہتے ہیں کہ خدا کو زیادہ ماننے والے مسلمان ہیں ۔ اگر جیل خانوں میں جا کر دیکھو تو سب سے زیادہ مسلمان ہی قیدی نظر آئیں گے ۔ اس طرح ہندو اور سیمی بھی خدا کو مانتے ہیں ان کی بھی کافی تعداد جیل خانوں میں سٹڑ رہی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اخلاق کی خرابی خدا کے ماننے کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کو نہ مانے کا نتیجہ ہے کسی شخص کا صرف منہ سے کہنا کہ میں خدا کو مانتا ہوں مفید نہیں ہو سکتا۔ کیا کو نین کو نین منہ سے کہنے