انوارالعلوم (جلد 6) — Page 21
انوار العلوم جلد 4 ۲۱ موازنہ مذاہب وغیرہ لیڈروں کی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے کوئی گاڑی یا موٹر جدھر جارہی ہو وہ چلتی جائے لیڈروں اور ایک شخص پیچھے ہاتھ رکھ دئے اور کہے کہ میں اس کو چلا رہا ہوں۔ لیکن آنحضرت نے جدھر گاڑی چل رہی تھی ادھر سے اس کا رُخ پلٹ کر دوسری طرف کو پھیر دیا۔ زرتشتی دو خداؤں کے قائل تھے ۔ آپ نے ان سے یہ عقیدہ چھڑوایا۔ عیسائی حضرت مسیح ناصری کو اپنے گناہوں کا کفارہ بنا کر اپنی نجات ان کی صلیبی موت میں جانتے تھے اور اسی پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے ۔ آپ نے اس ۔ نے اس کے خلاف آواز بلند کی جو ان کے وہمی باغات کو جلا کر خاکستر کر گئی ۔ قوم نے حضرت کا نادیار سے کیا سلوک کیا آپ کی قوم آپ کی قوم آپ کی بات ماننے کے لئے تیار ہی تھی بلکہ آپ کے خلاف کھڑی ہو گئی ۔ اور تیرہ سال تک آپ کو کو بیشمار تکالیف دیتی دیتی رہی۔ پھر وہ وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہوتے ان پر نئے سے نئے مظالم توڑے گئے ۔ اور عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر چیا گیا ۔ گرم ریت پر لٹائے گئے اور ان کو مارا گیا اور اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہو گئے ۔ اور جب ان کو ہوش آتی بتوں کو ان کے مارا کیا کہ وہ بے ہوش سامنے پیش کیا جاتا مگر پھر بھی جب وہ خدا کا ہی نام لیتے تو ان کو اور عذاب دیتے ۔ اس فتنہ کا حال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ذر غفاری نے جب سُنا کہ مکہ میں ایک شخص نے خدا کا رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے اپنے بھائی کو بھیجا۔ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کو پہنچنے نہ دیا اور واپس چلا گیا۔ پھر وہ خود آئے مگر کسی سے پوچھتے بھی نہ تھے کہ کوئی دھوکا نہ دید سے حضرت علی سے ملاقات ہوئی۔ بڑی ردوکہ کے بعد انہوں نے اپنا مقصد ظاہر کیا کہ میں آنحضرت کو دیکھنے آیا ہوں ۔ حضرت علی نے ان کو کہا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ ۔ جب کوئی غیر شخص نظر آئیگا تو میں جھٹ ایک طرف ہو کر بیٹھ جایا کرونگا۔ اور تم آگے نکل جایا کرو۔ اسی طرح حضرت ابوذر حضرت علی کے ساتھ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچے اور ایمان لے آئے ۔ مگر ان پر یہ اثر ہوا کہ ایمان لا کر خاموش نہ رہ سکے ۔ مکان سے نکلتے ہوئے کلمہ شہادت زور سے پڑھا۔ اس پر مشرکین جمع ہو گئے اور آپ کو مارنے لگے اور آپ بیہوش ہو گئے بعض لوگوں نے آپ کو چھڑا دیا اور اسی طرح ہوش آنے پر آپ نے پھر ایسا ہی کیا ۔ لوگ پھر مارنے لگے ۔ (بخاری باب بیان الکعبہ باب اسلام ابی ذرہ ) ۔ ایسی ایسی مصیبتیں تھیں جو آنحضرت اور صحابہ کو پہنچائی گئیں ۔ ان حالات میں آپ کے اصحاب کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی اور کفار نے ان کا وہاں تک تعاقب کیا۔ مگر وہاں کے