انوارالعلوم (جلد 6) — Page 22
انوار العلوم جلد 4 ۲۲ موازنہ مذاہب دربار میں جب مسلمان پیش ہوئے اور انہوں نے صفائی سے اپنے عقائد بتائے تو کفار کو مجبوراً و اپس آنا پڑا ۔ لیکن ابھی مصائب کا خاتمہ مصائب کا خاتمہ نہیں ہو گیا ۔ آپ کو پھر تکلیف پہنچائی گئیں ۔ اور آپ نے حضرت ابو بکر کو ساتھ لے کر مکہ سے ہجرت کی۔ پھر کفار نے پیچھا کیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی ۔ اس حالت میں کون کہہ سکتا تھا کہ جس کے چند ساتھیوں کی جمعیت بھی منتشر ہو گئی اور جس کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا۔ وہ کبھی غالب ہوگا۔ جب آپ مدینہ میں پہنچے تو ان لوگوں نے وہاں بھی آرام نہ لینے دیا۔ بار بار چڑھ کر گئے۔ چنانچہ ایک دفعہ جنگ احزاب میں دس ہزار کی جمعیت لیکر مدینہ پر چڑھ آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہم کو مدینہ کے ارد گرد خندق کھود نا پڑی۔ صحابہ کے ساتھ آپ بھی خندق کی کھدائی کے کام میں شریک تھے ۔ احادیث و تاریخ سے ثابت ہے کہ جب آپ نے کدال چلائی اور ایک پتھر پر لوہا پڑا اور اس میں سے شعلہ نکلا تو آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر ! صحابہ نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ۔ دوسری دفعہ آپ نے کدال ماری اور پھر شعلہ نکلا ۔ پھر آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر اور صحابہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔ تیسری دفعہ پھر آپ نے کدال چلائی اور شعلہ مشکلا - آپ نے زور سے اللہ اکبر کہا اور صحابہ نے بھی کہا۔ پھر آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم نے کیوں اللہ اکبر کہا ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ چونکہ حضور نے اللہ اکبر کہا تھا اس لئے ہم نے بھی کہا ورنہ ہم نہیں جانتے کہ کیا بات ہے ، اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جب میں نے پہلی دفعہ کدال ماری اور شعلہ نکلا تو مجھے دکھایا گیا کہ مجھے قیصر کے ملک پر فتح حاصل ہوئی اور دوسری دفعہ معلوم ہوا کہ کسری کے ملک پر اور تیسری دفعہ حیرہ کے بادشاہوں کی حکومت زیر و زبر ہوتی دکھائی ۔ گئی جب آپ نے یہ فرمایا تو منافقین اور مخالفین نے ہنسنا شروع کر دیا کہ یہ مجیب لوگ ہیں کہ پاخانہ پھرنے کی تو ان کو اجازت نہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں ہمیں میں گی اور ہم ان پر قابض ہونگے لیکن ان کی مہنسی جھوٹی ثابت ہوئی اور خدا کی بات پوری ہوئی اور اس سے ثابت ہو گیا کہ اسلام ستیجا ہے اور اس کی یہ دلیل ہے کہ یہ جن گھروں میں ہے وہ بلند کئے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ خدا تعالیٰ نے سورہ احزاب میں مسلمانوں کی حالت کا نقشہ یہ کھینچا ہے کہ زمین با وجود فراخی کے ان کے لئے تنگ ہو گئی تھی اور دنیا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ مسلمان اب کہیں جائیں گے ۔ اس وقت خدا ان کو بشارت دیتا ہے کہ تم مخالفین کو پیس دو گے اور دنیا کی حکومت تمہاری ہی ہوگی ۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق کے عہد مبارک میں شام فتح ہوا ۔ یہ ترقی اور یہ شان اور ادنیٰ حالت سے بلندی پر قدم کا فتح الباری جلد سے صفحہ ۷ ۳۹ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۱ء