انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 20

انوار العلوم جلد 4 ۲۰ موازنه مذاهب " " کرنے لگے اور نفع ان کو دیتے تھے اور وہ کچھ معاوضہ آپ کو دیدیتی تھیں ۔ عرب میں کوئی حکومت نہ تھی ۔ مگر مکہ والوں نے جو " دارالندوہ قائم کر رکھا تھا ، اس کے بھی آپ ممبر نہ تھے ۔ دنیاوی علوم آپ نے حاصل نہ کئے تھے ۔ آپ کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا اس تمام ضعف اور کمزوری پر طرفہ یہ کہ جب آپ نے دعویٰ کیا تو تمام عرب مخالف ہو گیا ۔ آپ وہ بات کہتے تھے جو جمہور عرب کے خلاف تھی اور عرب اس کو ماننے میں اپنی ہلاکت دیکھتے تھے۔ دنیا میں بڑے بڑے فاتح ہوئے ہیں اور لوگ بھی ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیم او مسٹر گاندھی دنیا میں ہیں ہیں جن کے ساتھ لوگ چل پڑے ۔ مثلاً آج ہمارے ہندوستان میں مسٹر گاندھی ہی ہیں ان کی جے کے نعرے بھی آج ہندوستان میں لگائے جاتے ہیں ممکن ہے کوئی کہدے کہ آنحضرت کے ساتھ اگر دنیا ہو گئی تو کیا ہوا۔ مسٹر گاندھی کے ساتھ بھی تو لوگ ہو ہی گئے ہیں ۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسٹر گاندھی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ آنحضرت عرب سے وہ بات منوا ر ہے تھے جو عرب ماننے کے لئے تیار نہ تھا ۔ مگر مسٹر گاندھی وہ بات کہتے ہیں جس کا مطالبہ خود ہندوستان کر رہا ہے ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کسی زمیندار کے پیٹ میں درد ہونے لگا ۔ کسی نے کچھ علاج بتلایا کسی نے کچھ ۔ ایک شخص نے جو زمینداری کا ایک اوزار لئے کھڑا تھا کہا کہ اس کو گڑ گھول کر پلا دو۔ مریض نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ ہائے اس کی بات کوئی نہیں سکتا ۔ تو وہ بات جو مسٹر گاندھی کہہ رہے ہیں لوگوں کے مطلب کی اور ان کی منشاء کے مطابق ہے اس لئے اس کو ماننے کے لئے تیار ہیں ۔ ایک اور مثال ہے جو اگرچہ فرضی ہے مگر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک بزرگ نے لکھا ہے ایک اونٹ کہیں جارہا تھا۔ آگے سے چوہا ملا اس نے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور جدھر اونٹ جا رہا تھا ادھر ہی چل پڑا ۔ تھوڑی دور جا کر چوہے نے خیال کیا کہ میں ہی اس کو چلا رہا ہوں ۔ آخر ایک دریا پر پہنچے اور وہاں اونٹ رک گیا ۔ چوہے نے کہا چل اس نے کہا نہیں چلتا ۔ جب تک میرا دل چاہا چلا۔ اب دل نہیں چاہتا ئیں نہیں چلونگا۔ تو چونکہ ان لیڈروں کی زبان سے وہی نکل رہا ہے ۔ جو لوگ چاہتے ہیں اس ہے ۔ لئے اگر لوگ ان کے پیچھے چل رہے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کے چڑھا دوں کی حفاظت کی فکر نہیں کی۔ ان کے بہتوں کی حفاظت نہیں کی جن پر چڑھاوے چڑھتے تھے اور جن سے ان کی گزر اوقات ہوتی تھی ۔ بلکہ آپ نے ان کے اس چڑھاووں کے رزق کو بند کر دیا اور کہدیا کہ ان خداؤں کو چھوڑو اور ایک خدا کو مانو۔ پس مٹر گاندھی