انوارالعلوم (جلد 6) — Page 334
انوار العلوم جلد 4 لم أسم له هستی باری تعالی اسی طرح کیا کوئی شاگرد یہ بھی کہا کرتا ہے کہ میں استاد کا امتحان پہلے لے لوں پھر سمجھوں گا کہ وہ میرا استاد بننے کے قابل ہے یا نہیں ۔ جب وہ اس سے پڑھے گا اسے خود ہی اس کی قابلیت یا جہالت کا علم ہو جائے گا یا بادشاہ کی مثال لو اگر کسی بادشاہ کے متعلق کوئی سوال مثلاً یہی ہو کہ وہ گھوڑے کی سواری جانتا ہے یا نہیں تو کیا منکر اس سوال کو اس طرح مل کرے گا کہ کہے گا کہ فلاں گھوڑے پر چڑھ کہ فلاں گلی میں سے گزرے تب میں مانوں گا کہ وہ سوار ہے یا یہ کرے گا کہ اگر بادشاہ سے پوچھ سکتا ہے تو اس سے پوچھ لے گا کہ کیا آپ سواری اچھی جانتے ہیں؟ پوچھ بھی نہیں سکتا تو جو اس کے مقرب ہیں ان سے دریافت کرے گا اور اگر یہ بھی طاقت نہیں تو ایسے موقع کا منتظر رہے گا جب وہ سوار ہو تو کر نکلے اور یہ اس کی سواری کا اندازہ کر سکے اگر ایسا شخص بادشاہ کے پاس جا کر اس قسم کا سوال کریگا کہ چل کر امتحان دو تو یقیناً یہ سزا پائے گا۔ پس خدا تعالیٰ چونکہ ہمارے ماتحت نہیں بلکہ ہم اس کے ماتحت ہیں اور وہ سب پر غالب اور سب کا حاکم ہے اس لئے اس کا پتہ لگانے کے لئے یہ کہنا درست نہیں کہ جس طرح ہم کہیں اس طرح کر دے تو ہم مانیں گے ۔ بلکہ خدا کے انبیائ سے اس کی ہستی کے متعلق دریافت کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کو اس کی شان کے مطابق تمام آداب کو مد نظر رکھ کر اس کا پتہ لگاتے ہیں یا خود خدا تعالیٰ کی شان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا پتہ لگانا چاہئے اور خدا تعالیٰ جو ثبوت پیش کرے اگر وہ ثبوت کی حد تک پہنچ جائے تو اسے قبول کرنا چاہئے نہ کہ یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح ہم خود چاہیں اس طرح خدا کر دے۔ اگر کہا جائے کہ بادشاہ کی مثال درست نہیں کیونکہ بادشاہ آدمی ہی ہوتا ہے اور وہ انسان کی ہر ایک خواہش کو پورا نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ تو پورا کر سکتا ہے پھر اس کے متعلق کیوں نہ یہ کہیں کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں اسی طرح وہ اپنی ہستی کا ثبوت دے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے کہ بادشاہ اس لئے لوگوں کے مطالبات کے مطابق اپنا امتحان نہیں دیتا کہ اس کا وقت خرچ ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے عہدہ کے خلاف سمجھتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے کسی طرح ان مطالبات کو قبول کر سکتا ہے ۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ اگر انسان کی خواہش کو پورا کر کے ہی خدا کی بستی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے تو پھر درحقیقت خدا تعالی کا جود ثابت نہیں کیا جاسکتا فرض کرد دو شخص سند رنگ اور آتما سنگھ ہوں اور ان میں مقدمہ ہو۔ ان میں سے ہر ایک کے کہ میرے نزدیک خدا کی ہستی کا ثبوت یہ سندرسن