انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 328

انوار العلوم جلد 4 ۳۲۸ ہستی باری تعالی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے سارے واقعات چونکہ محفوظ نہیں۔ اس لئے اسی قسم کی زیادہ مثالیں اب نہیں مل سکتیں ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ سینکڑوں ہزاروں مثالیں آپ کی زندگی میں مل سکتی ہوں گی۔ مگر حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جبکہ دہریت کا بہت زور ہے اور اس کے توڑنے کے لئے آسمانی نشانوں کی حد درجہ کی ضرورت ہے خدا تعالیٰ نے بہت سے نشانات اس قسم کے دکھائے ہیں جن پر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات کا قیاس کر سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر میں ایک صاحب عبدالکریم نامی کا واقعہ پیش کرتا ہوں وہ قادیان میں سکول میں پڑھا کرتے تھے انہیں اتفاقاً باؤلے کتے نے کاٹ کھایا اس پر انہیں علاج کے لئے کسولی بھیجا گیا اور علاج ان کا بظاہر کامیاب رہا لیکن واپس آنے کے کچھ دن بعد انہیں بیماری کا دورہ ہو گیا جس پر کسولی تار دی گئی کہ کوئی علاج بتایا جائے ؟ مگر جواب آیا : "NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM" افسوس ہے کہ عبدالکریم کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا ۔ حضرت مسیح موعود کو ان کی بیماری کی اطلاع دی گئی چونکہ سلسلہ کی ابتداء تھی اور یہ صاحب بہت دور دراز سے علاقہ حیدر آباد دکن کے ایک گاؤں سے بغرض تعلیم آئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہمدردی پیدا ہوئی اور آپ نے ان کی شفاء کے لئے خاص طور پر دُعا فرمائی اور فرمایا کہ اس قدر دور سے یہ آئے ہیں جی نہیں چاہتا کہ اس طرح ان کی موت ہو۔ اس دعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دورہ ہو جانے کے بعد کر شفاء دیدی ۔ حالانکہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس قسم کے مریض کو کبھی شفاء نہیں ملی ۔ میرے ایک عزیزہ ڈاکٹر ہیں انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ دوستی باری پر ایک دوسرے طالب علم سے گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو میں انہوں نے ہی واقعہ بطور شہادت کے پیش کیا۔ اس طالب علم نے کہا کہ ایسے مریض بچ سکتے ہیں یہ کوئی عجیب بات نہیں وہ کہتے ہیں کہ اتفاقاً اسی دن کالج میں پروفیسر کا لیکچر سگ گزیدہ کی حالت پر تھا۔ جب پروفیسر لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے اس امر پر زور دینا شروع کیا کہ اس مرض کا علاج دورہ ہونے سے پہلے کرنا چاہئے اور بہت جلد اس طرف توجہ کرنی چاہئے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بات کو واضح کرانے کے لئے کہا کہ جناب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دورہ پڑ جانے کے بعد بھی مریض اچھا ہو سکتا ہے ۔ اس پر پروفیسر نے جھڑی کر کہا کہ کبھی نہیں جو کہتا ہے وہ بیوقوف ہے۔ غرض یہ ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا ہے مگرحضرت مسیح موعود کی دعا تتمہ حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۸۰ ، ۴۸۱