انوارالعلوم (جلد 6) — Page 327
الوار العلوم جلد 4 ۳۲۷ بستی باری تعالی اثر ہے اور گھر والوں کو کہاکہ میرا نہ سونگھو انہوں نے بھی بتایا کہ مشک کی خوشبو آتی ہے یہ ایک قسم کی نئی پیدائش ہی تھی جو خدا کی صفت خالقیت کے ماتحت ہوئی ۔ شاید بعض لوگ کہیں کہ اس قسم کی باتیں خدا کے ماننے والے ہی کہتے ہیں ان کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ماننے والوں کی باتیں بھی ماننی ہی پڑتی ہیں ۔ اگر راستباز سمجھدار آدمی جن کو جھوٹ بول کر کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو ایسے امور کی شہادت دیں تو کیا وجہ ہے کہ ان کی شہادت کو قبول نہ کیا جائے اور اس قسم کی شہادتیں مومن ہی دے سکتے ہیں کیونکہ ایسے واضح نشانات مومنوں کو ہی دکھائے جاتے ہیں کیونکہ اگر نہ ماننے والوں کو بھی ایسے نشانات دکھائے جائیں تو پھر ان کا ایمان لانا کوئی خوبی نہیں رہ سکتا اور ان کا ایمان بے فائدہ ہو جاتا ہے سورج کو دیکھ کر اسے ماننے پر کسی سکنا اور کا ! انعام کا انسان امیدوار نہیں ہو ہوسکتا۔ سکتا ۔ اس اسی طرح اگر اگر ایسے ایسے شواہد غیر مومن دیکھیں تو ان کے ایمان بے نفع ہو جائیں پس یہ نظارے ایمان کے بعد ہی دکھائے جاتے ہیں ۔ کر اسے چھٹی مثال کے طور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت شفاء کو پیش صفت شانی کی شہادت تھتا ہوں، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ بعض مریض ایسے طریق پر اچھے ہوتے ہیں جو طبعی طریقوں کے علاوہ ہیں یا ایسے مریض اچھے ہوتے ہیں جو عام طور پر اچھے نہیں ہو سکتے تو ماننا پڑیگا کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جس کے اختیار میں شفاء ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنے اس اختیار کو استعمال بھی کرتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی طور پر شفاء بعض مریضوں کو ملتی ہے بغیر اس کے کہ طبعی ذرائع استعمال ہوں یا ان موقعوں پر شفا ہلتی ہے کہ جب طبعی ذرائع مفید نہیں ہوا کرتے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات میں سے اس قسم کی شفاء کی ایک مثال جنگ خیبر کے وقت ملتی ہے خیبر کی جنگ کے دوران میں ایک قسم دن آپؐ نے صحابہ سے فرمایا کہ خیبر کی فتح اس شخص کے لئے مقدر ہے جس کے ہاتھ میں میں جھنڈا دونگا۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب وہ وقت آیا تو میں نے گردن اونچی کر کر کے دیکھنا شروع کیا کہ شاید مجھے رسول کریم صلی اللہ علی وسلم جھنڈا دیں مگر آپ نے انہیں اس کام کے لئے مقرر نہ اتنے میں حضرت علیہ آئے اور ان کی آنکھیں سخت دکھ رہی تھیں آپ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور آنکھیں فوراً اچھی ہوگئیں اور آپ نے ان کے ہاتھ میں جھنڈا دیگر خیبر کی فتح کا دیا کام ان کے سپرد کیا۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة خيبر ) فرمایا