انوارالعلوم (جلد 6) — Page 326
انوار العلوم جلد 4 ۳۲۶ هستی باری تعالی کو پانی دے دیا اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت دی کہ سب کی ضرورت بھی پوری ہوگئی اور اس عورت کے لئے بھی پانی بیچ رہا یہ ایک زبر دست نشان صفت خالقیت کے ثبوت میں ہے اور اس واقعہ کے پیچھے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب اس واقعہ کو اس کی قوم نے معلوم کیا تو وہ سب کی سب مسلمان ہوگئی ۔ ایک ایسا واقعہ جس پر قوم کی قوم مذہب تبدیل کرلے ۔ راویوں کے ذہن کی بناوٹ نہیں کہلا سکتا۔ اگر کوئی کہے کہ یہ تو ایک قصہ ہے جو بعد میں بنا لیا گیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی تازہ مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح موعود کا ہی ایک واقعہ ہے جس کے گواہ ابھی زندہ موجود ہیں اور وہ یہ کہ حضرت صاحب ایک دفعہ سوئے ہوئے تھے۔ مولوی عبداللہ صاحب سنوری آپ کے پاؤں دبا رہے تھے۔ انہوں نے پاؤں دباتے دباتے دیکھا کہ کوئی گیلی گیلی چیز آپ کے پاؤں پر گری ہے ۔ ہاتھ لگا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ گیلا سرخ رنگ ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوا کہ یہ کیا چیز ہے اور یہ خیال کرکے کہ شاید چھپکلی وغیرہ کا خون ہو میں نے چھت کی طرف جو دیکھا تو وہ بالکل صاف تھی اور اس پر چھپکلی کا کوئی نشان نہ تھا پھر وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ٹوپی کو دکھا تو اس پر بھی کچھ چھینٹے تھے حضرت مسیح موعود اس وقت کسی قدر بیدار ہوئے اور آنکھیں کا اور آنکھیں کھولیں تو آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ کے کرتے پر بھی کئی چھینٹے ویسے ہی سُرخ رنگ کے پڑے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ نشان تازہ بتازہ پڑے ہیں یہ کیسے ہیں ؟ یہ پہلے تو آپ نے فرمایا کسی طرح نشان پڑ گئے ہوں گے ۔ مگر جب میں نے زور دیا کہ حضور یہ تو میرے میں زور دیا دیکھتے ہوئے پڑے ہیں اور تازہ ہیں تو پھر آپ نے سنایا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ اللہ تعالی بطور حج کے بیٹھا ہے اور میں ریڈر کے طور پر سامنے کھڑا ہوں اور کچھ کا غذات دستخطوں کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے سرخی کی دوات میں قلم ڈیوٹی اور قلم کو چھڑکا جس کے چھینٹے میرے کپڑوں پر گرے اور اس کا اثر ظاہر میں بھی ظاہر ہو ہوگیا گیا۔ یہ خواب تفصیل سے آپ کی کتب میں موجود ہے۔ اب دیکھو یہ خلق ہے یا نہیں ؟ وہ سرخی اگر خدا نے پیدا نہیں کی تھی تو کہاں سے آئی تھی ؟ غرض اب بھی صفت خلق کے ماتحت نشان دکھائے جا رہے ہیں مگر اس کے نظائر مؤمنوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ خود میرا اپنا ایک مشاہدہ ہے ۔ ایک دفعہ میں سو رہا تھا میں نے سوتے ہوتے دیکھا کہ میرے منہ میں مشک ڈالی گئی ہے ۔ جب میں اُٹھا تو منہ سے مشک کی خوشبو آرہی تھی میں نے سمجھا شاید خواب کا بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام - مفهوماً تذکره صفحه ۱۲۶ - ۱۲۷ - ایڈیشن چهارم