انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 19

انوار العلوم جلد 4 ۱۹ موازنہ مذاہب کی مانند صاف ہے اور چراغ میں جو روغن ڈالا گیا ہے وہ مبارک درخت سے نکالا ہوا ہے۔ ایسا درخت نہ شرقی ہے نہ غربی یعنی وہ ایسا درخت ہے جس پر ہر طرف سے دھوپ پڑتی ہے۔ ایسے درخت کی نشو و نما خوب ہوتی ہے اور وہ تیل بھی اپنی صفائی میں ایسا بڑھا ہوا ہے کہ خود بخود اس کو آگ لگ جائے جیسا کہ پٹرولیم ہوتا ہے ۔ ایسا چراغ جس میں اتنی صفات ہوں اس کی روشنی کا کیا کہنا۔ اس لئے فرمایا کہ نور علی نور - وہ نور ہے اور پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور نوکر نازل ہوتا ہے اور پھر جس کو چاہتا ہے اللہ ہدایت دیتا ہے ۔ اللہ نے لوگوں کے لئے اسلام کا دعوی پیش فرمایا ہے کہ اسلام خدا کا نور ہے اور سچا مذہب ہے اور اس کی روشنی تمام مذاہب کی روشینوں سے اعلیٰ ہے اور اس کی تعلیمات سب سے اکمل اور اتم ہیں۔ مگر یہ سارا بیان ایک دعوی کی صورت میں ہے۔ اس لئے آگے صداقت اسلام کی دلیل اس کی دلیل دیتا ہے فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَر مَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْخُدُ و وَ الْأَصَالِ کہ یہ نور ایسے گھروں میں ہے جو آج کسمپرسی اور غریب اور ادنی درجہ کے ہیں۔ مگر خدا نے ان کے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ انکو اٹھایا جائیگا اور ان کو بلند کیا جائیگا ۔ اللہ کا ان مکانوں کو بلند کرنا اور عزت دینا ثبوت ہو گا اس امر کا بلند کہ یہ مذہب اسلام خدا کی طرف سے ہے ۔ اسلام کی صداقت کے لئے یہ دلیل ہے کہ اس کے ماننے والے دنیا میں معزز و مکرم ہونگے اور ان کو ایک روشنی دی جائے گی۔ جس کے مقابلہ میں دنیا میں تاریکی ہو گی ۔ اسلام کے گھر بلند کئے مقاما ہے جانیے اور مالوں کے گھر کے مال میں نیچے کئے جائینگے اوریہ سلم کی دات کی پیل ہزار باتوں میں سے ایک ہے۔ اب ہم دعوی اور دلیل کیلئے آنحضرت صلی اللہ آنحضرت کی حالت دعوی سے پہلے لا رہا ہے اور ایمان رکھتے ہیں علیہ وسلم کے زمانہ کی طرف دیکھتے ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت آپ کی دنیا وی حیثیت کوئی بڑی نہ تھی۔ ابھی آپ حکم مادر ہی میں تھے کہ آپ کے والد فوت ہو گئے تھے اور بہت چھوٹی عمر تھی کہ ماں فوت ہوگئی ۔ آپ کو کوئی بڑا ترکہ بھی نہیں ملا تھا اس کے بارے میں متفرق روایتیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ آپ کو ملا وہ ایک اونٹ اور پانچ بکریاں تھیں۔ آپ کی کوئی ذاتی تجارت نہیں تھی۔ بلکہ بڑی عمر ہوئی تو حضرت خدیجہ کی تجارت بلکہ الثور : ٣٧